جمعرات,  30 جولائی 2026ء
سوشل کیئر سسٹم میں اصلاحات نہ ہوئیں تو این ایچ ایس ٹوٹ جائے گا: اینڈی برنہم کی وارننگ

لندن(روشن پاکستان نیوز) برطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سوشل کیئر سسٹم میں فوری اور مؤثر اصلاحات نہیں کی گئیں تو نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کا موجودہ نظام شدید دباؤ کا شکار ہو کر ٹوٹ سکتا ہے۔

اینڈی برنہم کا کہنا ہے کہ حکومت سوشل کیئر کے شعبے میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی خواہاں ہے تاکہ مریضوں کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں اور این ایچ ایس پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کیا جا سکے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے ابھی کوئی واضح ٹائم لائن پیش نہیں کی۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر سوشل کیئر کے نظام میں اصلاحات نہ کی گئیں تو این ایچ ایس علاج، آپریشنز اور دیگر طبی سہولتوں کے لیے انتظار کی طویل فہرستوں کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ اس وقت اسپتال ایسے مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں جن کی نگہداشت سوشل کیئر، کمیونٹی سروسز یا دیگر مناسب سہولتوں میں کی جا سکتی ہے۔

ان کے مطابق اس صورتِ حال کی وجہ سے این ایچ ایس پر غیر ضروری دباؤ بڑھ رہا ہے اور ان مریضوں کے علاج میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں جنہیں واقعی اسپتال کی ضرورت ہے۔

اینڈی برنہم نے خبردار کیا کہ اگر اس مسئلے کا حل تلاش نہ کیا گیا تو این ایچ ایس ایسے افراد کی دیکھ بھال کے بوجھ تلے دب جائے گا جنہیں در حقیقت این ایچ ایس کی خدمات کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے ویلفیئر اخراجات کے حوالے سے کہا کہ برطانیہ کو ایک ذمے دار ملک کی حیثیت سے اپنے اخراجات کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔

برطانیہ میں جیل نیل پالش پر پابندی، صحت کے خدشات کے باعث حکومت کا بڑا فیصلہ

برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ بینیفٹ کلیم کے نظام کو مزید مؤثر اور منظم بنانے کی ضرورت ہے لیکن اس بارے میں تفصیلی منصوبہ یا ٹائم لائن ابھی سامنے نہیں آئی۔

انہوں نے قبل از وقت عام انتخابات کے امکان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ترجیح عوامی خدمات، خصوصاً صحت اور سوشل کیئر سسٹم کو بہتر بنانا ہے۔

برطانیہ میں سوشل کیئر کا بحران کئی برسوں سے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے، عمر رسیدہ آبادی میں اضافہ، عملے کی کمی اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے این ایچ ایس اور سوشل کیئر دونوں شعبوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

مزید خبریں