اسلام آباد(روشن پاکستان نیو) اگر آپ دن بھر اپنا موبائل فون استعمال کرتے ہیں لیکن اسے باقاعدگی سے صاف نہیں کرتے تو یہ عادت آپ کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ دبئی میں خدمات انجام دینے والی مائیکروبایولوجسٹ نیتھو سریش کمار نے خبردار کیا ہے کہ ایک اسمارٹ فون پر ٹوائلٹ سیٹ سے بھی زیادہ بیکٹیریا موجود ہو سکتے ہیں اس لیے اسے روزانہ صاف کرنا ضروری ہے۔
انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں نیتھو سریش کمار نے کہا کہ جدید دور میں لوگ اپنا موبائل فون تقریباً ہر جگہ اپنے ساتھ رکھتے ہیں جس کی وجہ سے اس پر مختلف مقامات سے جراثیم منتقل ہوتے رہتے ہیں۔
ان کے مطابق موبائل فون دفتر کی میز، گھر کے کچن، جم کے آلات، بیگ، جیب اور حتیٰ کہ واش روم تک ساتھ لے جایا جاتا ہے جس کے باعث اس کی سطح پر بیکٹیریا اور دیگر جراثیم جمع ہوتے رہتے ہیں۔
ماہرِ جراثیمیات نے کہا کہ اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لوگ اسی فون کو بار بار ہاتھ لگانے کے بعد کھانا کھاتے ہیں، کھانا تیار کرتے ہیں یا کال کے دوران اسے چہرے کے قریب رکھتے ہیں۔ اس طرح جراثیم مسلسل ایک سطح سے دوسری سطح اور ہاتھوں سے چہرے یا خوراک تک منتقل ہوتے رہتے ہیں جسے طبی اصطلاح میں کراس کنٹیمنیشن کہا جاتا ہے۔
نیتھو سریش کمار نے واضح کیا کہ ان کا مقصد لوگوں کو خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ بہتر حفظانِ صحت کی عادات اپنانے کی ترغیب دینا ہے۔ ان کے مطابق چند آسان احتیاطی تدابیر اپنا کر موبائل فون پر موجود جراثیم کی تعداد میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
ایس ایچ او اور خاتون کے درمیان تلخ کلامی! سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل
انہوں نے مشورہ دیا کہ موبائل فون کو باقاعدگی سے فون کے لیے محفوظ جراثیم کش وائپس سے صاف کیا جائے یا نرم کپڑے پر معمولی مقدار میں ہینڈ سینیٹائزر لگا کر احتیاط سے اس کی سطح صاف کی جائے۔ ان کے مطابق یہ معمول اپنانے سے جراثیم کے ہاتھوں، چہرے اور خوراک تک منتقل ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ ماہرِ جراثیمیات کا کہنا تھا کہ صاف موبائل فون بہتر حفظانِ صحت کی علامت ہے۔











