میانوالی(کرائم رپورٹر) لیڈی کانسٹیبل کو ہراساں کرنے اور پستول تان کر شادی کا دباؤ ڈالنے پر پولیس اہلکار کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق میانوالی میں تھانہ پپلاں کی حدود میں خدمت مرکز کے اندر لیڈی کانسٹیبل کو ہراساں کرنے، اسلحہ لہرانے اور زبردستی شادی کے لیے دباؤ ڈالنے پر ایک پولیس کانسٹیبل کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ لیڈی کانسٹیبل شہناز گل خدمت مرکز پپلاں میں اپنی دفتری ڈیوٹی پر موجود تھیں کہ اس دوران ملزم پولیس کانسٹیبل رحمت اللہ پستول لے کر کاؤنٹر پر پہنچ گیا، ملزم نے خاتون اہلکار پر پستول تان لی اور ان پر شادی کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا۔
پنجاب پولیس میں بڑا ردوبدل: 15 اعلیٰ افسران کے تبادلے اور تعیناتیوں کے احکامات جاری
مقدمے میں کہا گیا کہ لیڈی کانسٹیبل شہناز گل نے ملزم کے اس اقدام پر شدید مزاحمت کی، جس کے نتیجے میں کشمکش کے دوران ملزم کا پستول زمین پر گر گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی خاتون اہلکار کے والد اور بھائی بھی فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔
تاہم ملزم رحمت اللہ کانسٹیبل نے خاتون اہلکار، ان کے والد اور بھائی کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا اور اسلحہ لہراتا ہوا موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
پولیس نے خاتون کانسٹیبل کی مدعیت میں اپنے ہی محکمے کے اہلکار کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔











