پیر,  06 جولائی 2026ء
آیت اللہ خامنہ ای شہید، ایران کے طاقتور ترین رہنما کا عہد ختم

تہران (روشن پاکستان نیوز): امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کے رہبر معظم بننے والی دوسری شخصیت تھے۔

28 فروری کو اسرائیل اور امریکی حملے میں شہید ایران کے رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے ساتھ شہید اہلخانہ کی نماز جنازہ اور سوگ کی تقریبات جاری ہیں اور انہیں 9 جولائی کو آبائی شہر مشہد میں امام رضا کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کے رہبر معظم بننے والے دوسری شخصیت تھے اور ان کے خاندان کا ایران میں اثر و رسوخ ہے۔

ان کا مکمل نام سید علی حسینی خامنہ ای تھا۔ ایران کے دوسرے رہبر معظم بننے والے علی خامنہ ای ولایت فقیہہ پر فائز اور ملک کی طاقتور شخصیت تھے۔

علی خامنہ ای نے 1939 میں مشہد کے ایک مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولی اور ان کی پرورش انتہائی سادہ اور مذبہ ماحول میں ہوئی۔

وہ اپنے بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھے، اور ان کے والد اہل تشیع کے معروف عالم تھے۔

آبنائے ہرمز بیرونی طاقتوں کی عسکری نمائش کا میدان نہیں، ایران کی سخت وارننگ

خامنہ ای مقامی سطح پر ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کیلیے نجف گئے، جہاں امام خمینی کی شاگردی میں رہے۔ 1979 کے انقلاب ایران سے قبل پہلوی حکومت کے خلاف تحریکوں میں پیش پیش رہے۔ جس کی پاداش میں قید اور جلاوطنی بھی کاٹی۔

شاہِ ایران کی خفیہ پولیس نے انہیں چھ مرتبہ گرفتار کیا، اور انہیں تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

انقلاب ایران کے ایک سال بعد امام خمینی نے انہیں تہران میں جمعہ کی نماز کا امام مقرر کر دیا جب کہ 1981 میں وہ ایران کے صدر منتخب ہوئے۔

ایران کے پہلے سپریم لیڈر امام خمینی کے انتقال کے بعد مجلس خبرگان نے انہیں آیت اللہ خمینی کا جانشین یعنی رہبر معظم مقرر کیا۔ بہت سے نوجوان ایرانیوں نے ہمیشہ سے انہیں اسی کردار میں ہی دیکھا۔

خامنہ ای ایرانی ریاست کے طاقت کے مراکز میں مرکزی حیثیت رکھنے کیلیے مشہور رہے۔ بطور رہبر معظم خامنہ ای کو کسی بھی حکومتی معاملے میں ویٹو کی طاقت بھی رہی۔

ان کے پاس یہ اختیار بھی تھا کہ وہ جسے چاہیں، کسی بھی عوامی دفتر کے امیدوار کے طور پر منتخب کر سکتے تھے۔ ریاست کے سربراہ اور فوج کے کمانڈر اِن چیف ہونے کے ناطے، وہ ایران کے سب کے طاقتور شخص کے طور پر جانے جاتے تھے۔

علی خامنہ ای نے ایران عراق جنگ، خطے میں ایران کی پالیسیوں اور ایران کے ایٹمی پروگرام سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت نے ایران کی داخلی سیاست، مشرقِ وسطیٰ اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

ایران میں ان کا دور اقتدار 36 سال پر محیط رہا، جس کے باعث وہ مشرق وسطیٰ کے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے سربراہِ مملکت بنے۔

خامنہ ای ادب بالخصوص شاعری اور باغبانی سے شغف رکھتے تھے۔ مارچ 1986 میں دورہ پاکستان کے بعد تہران میں ایک کانفرنس میں خامنہ ای نے پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال کو عظیم شخصیت اور اپنا مرشد قرار دیا تھا۔ اقبال کے بارے میں ان کا ایک خطبہ شہرہ آفاق حیثیت رکھتا ہے۔

مزید خبریں