اتوار,  05 جولائی 2026ء
نیتن یاہو جانتے ہیں کہ ‘باس’ کون ہے، اسرائیلی وزیراعظم سے ممکنہ ملاقات سے قبل ٹرمپ کا بیان

واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نےکہا ہےکہ  اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ان سے وائٹ ہاؤس میں  ملاقات کی درخواست کی ہے،  نیتن یاہو  جانتے ہیں کہ اصل اختیار ( باس کون ہے)کس کے پاس ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق ٹرمپ اور نیتن یاہو کی یہ ملاقات ٹرمپ کی نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی کے بعد ممکنہ طور پر اگلے ہی ہفتے ہوسکتی ہے۔

ایکسیوس سے مختصر ٹیلیفونک گفتگو  میں ٹرمپ نےکہا کہ  ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں، نیتن یاہو جانتے ہیں کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے۔ امریکی ویب سائٹ کے مطابق ٹرمپ کا اشارہ اپنی ذات کی طرف تھا۔

امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق  یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان فروری میں وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والی غیر معمولی ملاقات کے بعد پہلی ملاقات ہوگی۔ اس ملاقات میں نیتن یاہو نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ شروع کرنے کا اپنا منصوبہ پیش کیا تھا۔

ایکسیوس کے مطابق  فروری کی ملاقات کے بعد سے ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں میں نیتن یاہو کے بارے میں شکوک و شبہات اور مایوسی میں اضافہ ہوا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے بہت  سے قریبی مشیروں کا خیال ہےکہ نیتن یاہو ہر معاملے میں غلط ثابت ہوئے ہیں۔

گزشتہ دو ماہ کے دوران جنگ اور خطے کے دیگر معاملات کی وجہ سے ٹرمپ اور نیتن یاہو کے قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور داخلی سیاسی مفادات میں واضح اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔

گزشتہ ماہ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں شدت پر نیتن یاہو کو فون پر سخت تنقیدکا نشانہ بنایا تھا اور  نیتن یاہو کو  پاگل بھی قرار دیا تھا۔ ان اختلافات نے اسرائیل اور جنگ کے معاملے  پر  ریپبلکن پارٹی کے اندر  پہلے سے موجود اختلافات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

وینزویلا اور ایران جنگ سمیت شاندار کامیابیاں حاصل کیں، ٹرمپ کا امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب

ٹرمپ نے ایکسیوس کو بتایا کہ وہ ایران کے سابق  سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات پر نظر رکھے ہوئے ہیں،  ایرانی معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہیں، لیکن دونوں فریقوں نے فیصلہ کیا ہے کہ خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات ختم ہونے تک مذاکرات ایک ہفتےکے لیے روک دیے جائیں، اس دوران کوئی بھی فریق ایک دوسرے پر حملہ نہیں کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا وہ سب ایک ہی جگہ موجود ہیں، اگر ہم صرف ایک حملہ کریں تو سب کو ختم کر سکتے ہیں، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے، کیونکہ پھر ہمارے پاس مذاکرات کرنے کے لیے کوئی باقی نہیں رہے گا۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ کچھ ایرانی خامنہ ای کی آخری رسومات میں رو رہے تھے، میرا خیال تھا کہ لوگ خامنہ ای سے نفرت کرتے ہیں، شاید یہ آنسو بھی دکھاوے کے ہوں۔

مزید خبریں