اتوار,  05 جولائی 2026ء
مارشل لا کی طویل چھاؤں اور پاکستان کا ادھورا سفر
پاکستان میں لوڈ شیڈنگ: مسئلہ بجلی کا نہیں، نظام کا ہے

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 5 جولائی 1977 ایک ایسا دن ہے جس نے ملک کی سیاست، ریاستی ڈھانچے اور سماجی رویّوں پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ اسی روز اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف، جنرل محمد ضیاء الحق، نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لا نافذ کیا۔ قوم سے وعدہ کیا گیا کہ صرف نوّے روز کے اندر عام انتخابات کرا کے اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کر دیا جائے گا، مگر یہ نوّے دن کبھی پورے نہ ہوئے اور ملک گیارہ برس تک فوجی حکمرانی کے زیرِ اثر رہا۔

پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے بھی مارشل لا نافذ ہو چکے تھے، لیکن جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت کو اس لحاظ سے منفرد سمجھا جاتا ہے کہ اس کے اثرات صرف سیاسی نظام تک محدود نہ رہے بلکہ ریاستی اداروں، معاشرت، تعلیم، مذہبی بیانیے اور سیاسی کلچر تک پھیل گئے۔ اسی دور میں پاکستان کو سوویت۔افغان جنگ کے تناظر میں ایک نئی خارجہ اور داخلی پالیسی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے اثرات آنے والی دہائیوں تک محسوس کیے گئے۔ بہت سے ناقدین کا خیال ہے کہ مذہبی انتہا پسندی، فرقہ واریت اور تشدد کے رجحانات کو اسی دور میں تقویت ملی، جن کے نتائج سے ملک آج بھی مکمل طور پر نہیں نکل سکا۔

فوجی حکومت کے دوران سیاسی اختلاف کو سختی سے دبایا گیا۔ سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، اخبارات پر پابندیاں لگیں، سنسرشپ نافذ ہوئی اور جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کرنے والوں کو کوڑوں اور قید جیسی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ وہ دور تھا جب خوف اور خاموشی نے سیاسی مکالمے کی جگہ لے لی اور ایک پوری نسل نے عملی جمہوریت سے محرومی میں آنکھ کھولی۔

1985 میں غیر جماعتی انتخابات کرائے گئے، جن کے نتیجے میں وجود میں آنے والی پارلیمنٹ پر بھی یہ تنقید ہوتی رہی کہ وہ حقیقی عوامی نمائندگی سے محروم تھی۔ بعد ازاں جنرل ضیاء الحق نے 1988 میں اسی اسمبلی کو بھی تحلیل کر دیا۔ چند ماہ بعد 17 اگست 1988 کو بہاولپور کے قریب ایک فضائی حادثے میں ان کی ہلاکت کے ساتھ ان کا دورِ حکومت اختتام پذیر ہوا، لیکن ان کے دور میں متعارف کرائے گئے کئی سیاسی، انتظامی اور سماجی رجحانات اپنی جگہ برقرار رہے۔

اگرچہ 1988 کے بعد ملک میں جمہوری حکومتیں بحال ہو گئیں، لیکن پاکستان کا سیاسی سفر مسلسل عدم استحکام، ادارہ جاتی کشمکش اور غیر منتخب قوتوں کے اثرورسوخ کے مباحث سے عبارت رہا۔ بہت سے تجزیہ کار اسے “ہائبرڈ نظام” قرار دیتے ہیں، جس میں بظاہر منتخب حکومتیں موجود ہوتی ہیں مگر اہم فیصلوں میں دیگر طاقتور اداروں کا کردار بھی نمایاں رہتا ہے۔
اسی طرح پارلیمانی سیاست کا ایک ایسا انداز بھی فروغ پایا جس میں قانون سازی کے بجائے ترقیاتی فنڈز، ذاتی سیاسی مفادات اور اقتدار کی سیاست کو زیادہ اہمیت ملتی رہی۔ اس رجحان نے عوامی نمائندگی کے اصل تصور کو بھی متاثر کیا اور پارلیمنٹ کے بنیادی کردار پر سوالات اٹھائے۔

آج، 5 جولائی 1977 کے واقعے کو تقریباً نصف صدی گزر چکی ہے، لیکن یہ تاریخ اب بھی پاکستانی سیاست میں ایک اہم حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ اس دن کے بارے میں آراء مختلف ہو سکتی ہیں، مگر اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ اس نے پاکستان کے سیاسی ارتقا کی سمت بدل دی۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے آئین کی بالادستی، جمہوری تسلسل، مضبوط اداروں اور قانون کی حکمرانی کو قومی ترجیح بنایا جائے، کیونکہ پائیدار استحکام کا راستہ صرف ایک مضبوط اور مسلسل جمہوری نظام ہی سے ہو کر گزرتا ہے۔

تحریر: — داؤد درانی

مزید خبریں