تحریر: داؤد درانی
امریکہ اور ایران کے بیچ جنگ بندی کے فیصلے پر ساری دنیا نے سکھ کا سانس لیا ہے کیونکہ قریباً چار ماہ سے ایران نے دنیا کی معاشی شہ رگ پر پاؤں رکھا ہوا تھا اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے ساری دنیا میں معاشی بحران تیزی سے بڑھ رہا تھا ۔
یہ جنگ ایک بے معنی جنگ تھی اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نا ہوگا کہ امریکہ جو اپنے آپ کو سپر پاور کہتا ہے اس نے ایران جیسے ایک کمزور ملک کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ۔ ایران طویل عرصے سے معاشی پابندیوں کا شکار تھا اور اس کی فوجی طاقت بھی امریکہ کے مقابلے میں کافی کمزور تھی لہذا جنگ شروع ہونے کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ ایران بہت جلد شکست کھا جائے گا اور یو ایران پر امریکہ اور با الفاظ دیگر اسرائیل کا قبضہ ہو جائے جو پاکستان کے لیے ایک انتہائی تشویشناک بات تھی ۔
مگر دنیا نے دیکھا کہ پاکستان جیسے ایک چھوٹے اور معاشی مشکلات کے شکار ملک نے نہ صرف ایران بلکہ امریکہ جیسی سپر پاور کا اعتماد حاصل کرتے ہوئے اپنی انتھک کوششوں سے ان دو ممالک کے بیچ جنگ بندی کروا کر دنیا کو ایک بڑے بحران سے بچا لیا ۔ آج بھارت جیسے ملک کا میڈیا بھی چیخ چیخ کر اپنے حکمرانوں کو یہ طعنے دے رہا ہے کہ دیکھو تم سے کئی درجے چھوٹے ملک پاکستان نے یہ کارنامہ سر انجام دے کر ساری دنیا کو پاکستان کی تعریف کرنے پر مجبور کر دیا ۔ ایک وقت تھا کہ بھارت کا وزیراعظم نریندر مودی بڑے فخر سے دعوے کیا کرتا تھا کہ ہم نے پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کر دیا ہے لیکن اللہ کی قدرت دیکھیے کہ پاکستان کے حکمرانوں اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی انتھک کوششوں کی وجہ سے پاکستان نے عالمی برادری میں وہ مقام حاصل کر لیا کہ جو بڑے بڑے ممالک بھی حاصل نا کر سکے ۔
امریکہ ایران پر حملہ کرکے بری طرح سے پھنس گیا تھا اس نے یہ کام اسرائیل کی ہلہ شیری کی وجہ سے کیا لیکن حیرت انگیز طور پر اسکے اپنے اتحادی نیٹو ممالک نے اس جنگ میں شریک ہونے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے امریکہ بوکھلا گیا اور پھر باعزت طریقے سے اس سے جان چھڑانے کے بہانے ڈھونڈنے لگا ۔
ایسے وقت میں پاکستان نے امریکہ کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لیے ایران کو جنگ بندی کے لیے آمادہ کیا اور امریکہ نے اسے موقع غنیمت جانتے ہوئے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کر دیے ۔
اگر دیکھا جائے تو یہ معاہدہ امریکہ اور اسرائیل کی شکست اور ایران و پاکستان کی فتح ہے ۔ ایران نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ اگر قوم متحد ہو تو سپر پاور اور اسکے بغل بچے اسرائیل کو بھی بھاگنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے ۔ اس معاہدے کو پاکستان کی فتح اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ اگر ایران شکست کھا جاتا اور وہاں امریکہ اور اسرائیل نواز حکومت بن جاتی تو پاکستان سخت مشکلات سے دو چار ہو سکتا تھا کیونکہ اسرائیل اور بھارت پاکستان کے وجود کے سخت دشمن ہیں لہذا انہیں پھر پاکستان کے بارڈر کے قریب بیٹھ کر پاکستان میں دخل اندازی کا پورا پورا موقع مل جاتا ۔
اسی طرح اس جنگ سے قبل پاکستان اور ایران کے تعلقات میں کافی تناؤ پیدا ہو چکا تھا جس کا بھارت فائدہ اٹھا رہا تھا لیکن امریکہ ، ایران جنگ میں پاکستان نے جس طرح سے ایران کے ساتھ ہمسائیگی اور دوستی کا حق ادا کیا اس کے بعد اب دونوں اسلامی برادر ملکوں کے بیچ دوبارہ انتہائی خوش گوار تعلقات استوار ہوگئے ہیں جو بلوچ علیحدگی پسندوں کے لیے بھی غم کی خبر ہے ۔
اب پاکستان کو چاہیے کہ وہ ان کامیابیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی سطح پر اپنے حاصل کردہ مقام کو قائم رکھنے کی بھر پور کوششیں کرے اور بیرونی معاملات کے بعد اپنے اندرونی معاملات کی فوری درستگی کی طرف بھی توجہ دے ۔ اگر پاکستان دنیا میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے تو یہ کیسے ممکن نہیں کہ وہ اندرون ملک بھی امن اور سیاسی رواداری کے قیام میں ناکام ہو ۔ حکومت ، اپوزیشن اور فوجی قیادت کو چاہیے کہ وہ ملکی ترقی ، استحکام اور معاشی خود مختاری کے لیے ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو جائیں تاکہ پاکستان کے دشمن یہ جان سکیں کہ پاکستان بیرونی اور اندرونی طور پر ایک باوقار اور مضبوط ملک ہے ۔











