اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سابق کرکٹر باسط علی نے ثقلین مشتاق کے سامنے شاداب خان کو ون ڈے ٹیم میں شامل کرنے کو اقربا پروری اور پسند نا پسند کی بنیاد پر شامل کرنے کی مثال دے دی۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے باسط علی نے کہا کہ جس ملک میں بنیاد ہی اچھی نہیں ہو گی تو کرکٹ کیسے ترقی کرے گی ہمارے وقت میں انڈر 19 کی سلیکشن کمیٹی ہوتی تھی جو اب نہیں ہے، اصل بنیاد بنتی ہے انڈر 19 سے، دنیا میں 4 دن کی انڈر 19 کھیلی جاتی ہے ہمارے ہاں 3 دن کی بھی کروا دیں تو بڑی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ کو خراب کرنے کے بڑے ذمہ داران میں ڈومیسٹک کے ڈائریکٹرز ہیں جو کہتے ہیں کہ جس کھلاڑی کی فٹنس نہیں ہے وہ نہیں کھیلے گا، حالانکہ یہ ان کا کام ہی نہیں ہے۔
پاکستان میں پسند نا پسند کی بنیاد پر کرکٹ ہو رہی ہے جسے جو پسند ہے اسے کھلایا جاتا ہے اور اگر کو پسند نہیں تو اسے شامل نہیں کیا جاتا۔
بنگلادیش سے سیریز کیلئے اسکواڈ کا اعلان، بابراعظم اور صائم ایوب ڈراپ
رضوان کو ڈراپ کیے جانے پر ان کا کہنا تھا کہ ہیڈکوچ مائیک ہیسن کے کہنے پر رضوان کو باہر کررہے تو یہ بڑی زیادتی کی بات ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ شاداب خان نے تین سال سے ون ڈے کرکٹ نہیں کھیلی اسے ٹیم میں شامل کر لیا گیا، صرف پی ایس ایل میں چار اوور کی پرفارمنس پر ون ڈے میں بلا لیا گیا، مجموعی طور پر بورڈ میں ایسے ہی پسندیدہ کھلاڑیوں کو شامل کر لیا جاتا ہے۔
حیران کن طور پر انہوں نے شاداب خان کی مثال ثقلین مشتاق کے سامنے پیش کی جو کہ شاداب خان کے سسُر بھی ہیں۔











