کچھ عرصے سے جب بھی میڈیا کی آواز مضبوط ہونا شروع ہوتی ہے صحافیوں کی کم بختی آ جاتی ہے۔ وزیر اطلاعات کوئی بھی ہو، حکومت کسی جماعت کی بھی ہو فارمولہ ایک ہی ہوتا ہے۔
مالکان اخبارات و چینل نقصان کا شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔ نعرہ ہوتا کہ نقصان ہو رہا ہے۔۔
عجیب ہی نقصان ہوتا ہے کہ ایک اخبار کے ساتھ دوسرا انگریزی اخبار شروع کرتے ہیں، دو دو ماہنامہ جرائد بھی جاری کرتے ہیں، پھر ایک ٹی وی سے دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا چینل چلا رہے ہوتے ہیں اگر نقصان ہو رہا ہے تو ادارے کیسے بڑھ رہے ہیں؟ وفاقی وزارت اطلاعات اور صوبائی حکومتوں سے اربوں کے اشتہارات بھی مل رہے ہوتے ہیں پھر بھی یہ بے چارے ارب پتی مالکان نقصان میں ہوتے ہیں۔
اپنے میڈیا ادارے کے نام پر اپنے دیگر کاروبار بھی منافع بخش بنا لیتے ہیں مگر پھر بھی نقصان میں رہتے ہیں۔ یہ اور ان کے تمام بچے سال میں دو مرتبہ انگلینڈ، امریکا اور یورپ کا دورہ بھی کرتے ہیں، پھر بھی یہ غریب ہیں۔
ان کو حکومت وقت ادارے کے لیے بھی اور ان کی ذاتی رہائش کے لیے بھی مفت پلاٹ دیتی ہے مگر یہ پھر بھی نقصان میں رہتے ہیں۔ یہ اپنے کوٹے کا نیوز پرنٹ فروخت کر کے بھی کروڑوں کماتے ہیں مگر پھر بھی غریب رہتے ہیں۔
ان کے بچے بیرون ملک مختلف یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں مگر جس صحافی کی خبروں کی بنیاد پر یہ حکومتوں سے ڈیل کرتے ہیں اس صحافی کے بچے تین تین ماہ کی فیس جمع نہ کروا سکنے پر سکول کے گراؤنڈ میں سزا کے طور پہ کھڑے رہتے ہیں۔
یہ غریب ارب پتی مالکان جب اسلام آباد کے دورے پر آتے ہیں تو وزارت اطلاعات ان کے لیے فائیو سٹار ہوٹل میں قیام و طعام کا بندوبست کرتی ہے جبکہ عام رپورٹر، کیمرہ مین، میڈیا ورکر بے چارے کئی کئی ماہ تنخواہ نہ ملنے پر مالک مکان کے طعنے سنتے ہیں، کئی صحافی جب رات گئے دفتری امور نمٹا کر گھر پہنچتے ہیں تو معلوم پڑتا ہے کہ تین ماہ کا کرایہ ادا نہ ہونے پر ان کے گھر کا سامان مالک مکان نے باہر پھینک رکھا ہے اور اس کے بچے کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ میڈیا مالک اپنے نقصان کا شور مچا کر انگلینڈ کے دورے پر ہوتے ہیں۔۔
جب بھی مالی مسائل کے نام پر انہیں سٹاف کم کرنا ہو تو کم بختی چھوٹے ملازمین کی آ جاتی ہے۔ بیس لاکھ سے ایک کروڑ تک تنخواہ وصول کرنے والے ایک اینکر کو بھی نہیں نکالا جاتا مگر پچیس تیس ہزار سے ایک لاکھ تک تنخواہ لینے والے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو بیک جنبشِ قلم، بغیر کسی نوٹس کے برخاست کر دیا جاتا ہے۔ تمام سٹاف کی تنخواہ ایک طرف اور اینکرز کی تنخواہ ایک طرف۔۔ پھر بھی وہ ادارے سے نکلتے ہیں تو دوسرا ادارہ ان کا منتظر ہوتا ہے کیونکہ کوئی انجان کال آ چکی ہوتی ہے۔
اس وقت بھی نقصان کا رونا رونے والے مالکان سے کوئی اگر پوچھے کہ آمدن اور اخراجات کے گوشوارے دکھاؤ تو وہ کبھی تیار نہیں ہو گا۔ پچھلے ایک ہفتے سے چند اخبارات کو جتنے اشتہارات بانٹے گئے ہیں ان سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی ایک سال کی تنخواہ ادا کی جا سکتی تھی مگر وہ چھانٹیاں کر رہے ہیں۔۔ ہر ادارے نے ملازمین کو نکالنے کی فہرستیں مرتب کر لی ہیں۔
کچھ ادارے ایسے ہیں جن میں ٹاپ مینجمنٹ نے اپنے کچھ رشتے دار، دوست یا سفارشی بھرتی کر رکھے ہیں۔ ان کا کام صرف اپنی تنخواہ کا جواز پیش کرنا ہوتا ہے اس کے لیے وہ تمام سٹاف کو تختہ مشق بنائے رکھتے ہیں جس سے چینل یا اخبار کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا مگر اس کی ذہنی تسکین ضرور ہوتی ہے۔۔ اس کے علاوہ ایسے سفارشی رشتے دار کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی کسی لاڈلی خاتون کے ساتھ سارا دن مصروف رہتا ہے۔
اس سارے عمل میں حکومت شریک ہوتی ہے مگر خاموش رہنا پسند کرتی ہے، میڈیا مالکان کے ساتھ رہنا ان کے مفاد میں ہوتا پے، اب تو میڈیا مالکان کے نمائندے پارلیمنٹ کا حصہ بھی بننے لگے ہیں۔
ہمارا ماننا ہے کہ اگر آپ حقیقتاً یہ سمجھتے ہیں کہ ادارے کو چلانا ہے تو پھر ادارے کا کنٹرول کسی پیشہ ور ایڈیٹر کے ہاتھ دے دیا جائے، ایڈیٹر کا شعبہ کچھ عرصے سے مالکان نے اپنے ہاتھ میں رکھنا شروع کر دیا ہے جس سے پروفیشنل جرنلزم کو نقصان پہنچا ہے۔ جو آج بھی یہ نعرہ مار رہے ہیں کہ ٹی وی چینل سے اب منافع نہیں وہ چینل اور اخبار ختم کر کے بتائیں کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پروفیشنل صحافی کے بغیر کیسے چلے گا۔
اب نقصان نقصان کا ڈرامہ بند کرو اور اپنی جائیدادوں کا حساب کتاب دو کہ چینل، اخبار شروع کرنے سے پہلے مالی حیثیت کیا تھی اور اب کیا ہے؟.
انجان کالم
انجانے کالم کار کے قلم سے











