تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
ایک عبرت ناک انجام /جس سے انسان بے خبر ہے
جائے عبرت ہے یہ خاکدان جہاں
تو کہاں منہ اٹھائے جاتا ہے
آج میں آپ کو ایسی ویڈیوز کا احوال بتانے جا رہا ہوں جو آپ کے جذبات میں تلاطم پیدا کر دیں گی۔آپ کی زندگی کی خوشیوں اور جو آپ اس وقت کتنی ہی خواہشوں، امنگوں اور امیدوں کو اپنے دل و دماغ میں سمیٹے بیٹھے ہیں راکھ کا ڈھیر بنا دیں گی۔
پھر آپ کو اپنی زندگی سے ، اپنے مال و دولت سے، اپنی گاڑی سے! اپنے گھر سے، اپنے عزیزو دوستوں حتی کہ اپنی جان کی بھی پرواہ نہ رہے گی۔جی ہاں میں بالکل سچ کہتا ہوں۔
میں نے ایک ویڈیو دیکھی آج صبح فیس بک پہ، اس نے تو مجھے رلا دیا ہے،
یہ ایک مردے کی کہانی تھی، وہ مردہ مجھے بتا رہا تھا کہ کس طرح تمہارے مرنے کے بعد،
دنیا تمہیں ایک گھنٹے میں بھول جائے گی۔لوگ تمہارے نام کا کھانا کھائیں گے، ایک دن بعد سب مصروف ہو جائیں گے اور لگ بھ چند دنوں بعد تمہارا پلنگ اور تمہاری کرسی جس پہ تم استراحت اور آرام کیا کرتے تھے کسی اور کے زیر استعمال ہوگی۔
جب تمہیں قبر میں اتارا جا رہا ہوگا تو لوگ دنیاوی باتیں کر رہے ہوں گے، کچھ بے حس اس موقع کی نزاکت کو نہ سمجھتے ہوئے ایک دوسرے سے خوشگوار جملوں کا تبادلہ کر کے مسکراتے ہوئے بھی دیکھے جائیں گے،
تمہاری اوقات ہی کیا ہے؟ تمہاری حیثیت ہی کیا ہے؟
یہ مردہ مجھے بتا رہا تھا کہ تمہارے مرنے کے بعد تمہاری چیزیں یا تو بیچ دی جائیں گی یا کسی کو دان کر دی جائیں گے۔
یہ سن کر میرے جسم میں، میرے جذبات میں تلاطم برپا ہو گیا ۔
میں نے سوچا کہ واقعی یہ لاش تو ٹھیک کہتی ہے۔
میں بھی ایسے ہی دیکھتا ہوں کہ جب کسی کو دفنانے جاتا ہوں تو دو مٹھی مٹی کی قبر پر ڈالنے کے بعد دنیاوی رنگ رلیوں میں کھو جاتا ہوں۔
لاش نے مجھے احساس دلایا کہ میں تو کسی کے لیے بھی اہم نہیں ہوں ۔
اب میرے آنسو نکل رہے ہیں، مجھے پتا چلا ہے کہ بہت جلد میں بھی ایک کہانی بن جاؤں گا، تم لوگوں کے پاس تو میرے لیے وقت ہی نہیں ہوگا،
اب میں سوچتا ہوں کہ یہ دنیا تو فانی ہے ۔
نہیں نہیں، انسان فانی ہے ،میں کیوں اس بدگمانی میں گرفتار رہا ہے کہ میں ہمیشہ اس دنیا میں رہوں گا؟ کیوں وقت دیتا رہا اپنے دوستوں کو، کیوں اپنے بیوی بچوں کے لیے زندگی ہلکان کرتا رہا اینی؟ان کے لیے روزگار کا وسیلہ بنتا رہا، ان کو اچھی اور بری باتوں کی تمیز دیتا رہا ،کیوں؟کیوں؟
آج میں سوچتا ہوں کہ جن کو میری کوئی پرواہ نہیں ،جو میرے مرنے کے دو دن بعد مجھے بھول جائیں گے اور میرا ذکر نہ کریں گے تو کیوں نہ میں آج ہی ان کو بھول جاؤں ۔
خاندان کے لوگوں کو، دوستوں کو! کاروباری افراد کو وقت دینا بند کر دوں۔
میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ آج میں اس دنیا کو تیاگ دوں گا۔ میں کسی آشرم میں پناہ لے لوں گا۔
یا گوتم بدھ کی طرح کسی بڑے برگد کے پیڑ کے نیچے بیٹھ کر موت کا انتظار کروں گا۔
اب یہ ویڈیو بھیجنے والے بھی بہت چالاک لوگ ہیں، جب انہیں پتا چل گیا کہ میں نے ایک ویڈیو پوری دیکھ لی ہے تو اسی طرح کی ایک سکھ بھائی کی مرنے کے بعد کی ویڈیو بھی انہوں نے میرے ساتھ شیئر کر دی تاکہ میرا دل اور پسیج جائے، میں اور پریشان ہو جاؤں۔
وہ مردہ سردار جی پنجابی میں بات کر رہے تھے جس کا پنجابی سے اردو میں ترجمہ کرتا ہوں۔
مردہ سردار جی کہہ رہے تھے کہ کیا فرق پڑتا ہے کسی کے دنیا سے جانے کا ؟کسی رشتہ دار، دوست اور عزیز نے میرے مرنے کے بعد ایک وقت کا کھانا بھی نہیں چھوڑا۔ ایک دن گزرنے کے بعد سب لوگ مجھے بھول گئے۔ سردار پنجابی میں کہہ رہے تھے اب تم لوگ صرف اپنے لیے جیو ،خود سے محبت کرو کیونکہ دنیا تمہارے نہ ہونے سے کبھی نہیں رکتی، سب اپنے کام پر چلے جائیں گے بہت جلد ۔کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا تمہارے جانے سے،
ایک سال کے بعد تم صرف ایک تصویر بن کر رہ جاؤ گے اور تمہارا ذکر بھی نہیں ہوگا کہیں ،
سردار جی نے جو تصویر بن کر رہ جانے والی بات کی ہے وہ تو ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ ہندو اور سکھ مرنے کے بعد ایک بڑی تصویر دیوار پر لٹکا کر اس پہ ہار ڈال دیا کرتے ہیں لیکن میں اس بات سے اور افسردہ ،پریشان اور اداس ہو گیا ہوں کہ ہم مسلمان تو ہار والی تصویر نہیں بنایا کرتے۔ تو کیا میری ایک تصویر بھی میرے گھر کی کسی دیوار پہ رونق نہ بخشے گی؟
آج میں بہت جذباتی ہو گیا ہوں، میں نے سوچا ہے کہ میں اپنی چیزیں لوگوں کو دے دوں۔ مجھے کیا ضرورت ہے؟ اتنے سارے سوٹ پڑے ہیں میرے پاس، ڈھیروں بوٹ ہیں، بہت ساری ڈیکوریشن کی چیزیں ہیں،
میں نے اپنی کچھ چیزیں سمیٹی ہیں اور ٹیبل پہ رکھ دی ہیں، اخبار فروش کو میسج کر دیا ہے کہ صبح آ کے ایک تھیلا بھری ہوئی چیزوں کو مجھ سے لے لینا ،
وہ جو کام والی لڑکی آتی ہے اس کے میاں کو بھی کہہ دیا ہے کہ دو جوڑے جوتوں کے مجھ سے صبح لے جائے ،
میں بہت دکھی ہوں، میں آج سب کچھ اپنا بانٹ دینا چاہتا ہوں کیونکہ یہ چیزیں مجھے موت سے نہیں بچا سکیں گی۔
ایک منٹ ٹھہر جائیے!
میرا بیٹا آیا ہے،
وہ مجھے کچھ کہنا چاہتا ہے،
ذرا ہولڈ کیجیے۔
بہت شکریہ آپ نے تھوڑی دیر انتظار کیا۔ وہ میرا بچہ کہہ رہا تھا کہ ماما کہتی ہے کہ تہذیب کی ڈبل روٹی لے آئیے گا اور کام والی اور دودھ والے کے پیسے دے دیں۔
اب میں یہ کس چکر میں پڑ گیا۔ اب میں سوچنے لگا ہوں کہ جس جس شخص نے میرے پیسے دینے ہیں اس سے مانگ لوں اور جن جن کے پیسے میں نے دینے ہیں ان سے کسی بہانے دو دن کا اور ٹائم لے لوں،
ابھی جو تھوڑی دیر پہلے میرے جذبات تھے، ابھی یکسر بدل چکے ہیں۔
میں سوچ رہا ہوں کہ ابھی جو کپڑے اور بوٹ میں نے بانٹنے کے لیے نکالے ہیں انہیں واپس رکھ دوں ،میرے مرنے کے بعد میری بیوی خود ہی مستحقین کو پہنچا دے گی،
اب اس دنیا میں یہی تو خرابی ہے جب بھی آپ انسان کے بچے بننے لگتے ہیں تو یہ دنیا آپ کو پھر بگاڑ دیتی ہے، تھوڑی دیر پہلے میں سب کچھ اپنا بانٹنے کو تیار تھا لیکن اب گھر کے اخراجات جب سامنے آ رہے ہیں تو سوچتا ہوں کہ کمائی کے اور کون سے ذرائع ایسے ہیں جن پہ میں دسترس حاصل کر سکتا ہوں۔
اور اب یہ بھی خیال آ رہا ہے کہ کے مردوں کو بھول جانا خدا کی دنیاوی نعمتوں کی طرح ہی ایک نعمت ہے ورنہ تو ہم ہمیشہ روتے رہیں، ان کو یاد کرتے رہیں !ہم دنیا میں کسی کام کے نہ رہیں گے کیونکہ جو شخص چلا گیا اس کے بعد اس کے گھر کی ذمہ داری کسی اور نے لینا ہوگی اور اگر وہ اپنے آپ کو دکھی رکھے گا تو اپنے ساتھ والوں کو سکھی کیسے کر سکے گا؟
اور ایک وجہ ہے بھی ہے کہ ایسے جذبات بہت دیر تک قائم نہیں رہتے کیونکہ گھر میں سے کسی کی اونچی آواز آتی ہے کہ سبزی اور پھل لانے کے لیے پیسے دے دیں
اور یہ لوگ جو اکثر گلہ کرتے ہیں، یہ دانشور جو کہتے ہیں کہ میت کے پاس لوگ دنیاوی باتیں کرتے ہیں تو ان کے لیے عرض ہے کہ ہزاروں سال پرانی ایک غار سے ایک تحریر برامد ہوئی ہے۔ یہ تحریر فرعون کے زمانے کی ہے جس پہ زبان کے ماہرین نے ڈی کوڈنگ کی تو یہ جملہ سامنے آیا کہ
آج کل کے نوجوان تہذیب و اخلاق بالکل بھول چکے ہیں کیونکہ وہ میتوں پر آ کر بھی دنیاوی باتیں کرتے ہیں۔
تو آپ نے جانا کہ یہ مسئلہ آج کے دور کا نہیں ہے ۔لاشوں کے پاس دنیاوی باتیں کرنا تو فرعون کے زمانے سے ثابت ہے ۔
چلیں کوئی اسلامی ٹچ بھی دے دوں اس بات کو ،
سوگ منانے، سوئم !چہلم ،برسی منانے سے تو اسلام میں منع کیا گیا ہے۔
کیا کہتے ہیں آپ لوگ؟











