تحریر: وقار نسیم وامق
پاکستان میں سرکاری نظامِ کار کی ایک دیرینہ روایت ہے کہ اعلیٰ عہدوں سے ریٹائر ہونے والے افسران کو مختلف محکموں میں دوبارہ تعینات کر دیا جاتا ہے۔ یہ تعیناتیاں کبھی مشاورتی بنیادوں پر کبھی کنٹریکٹ پر اور کبھی خصوصی احکامات کے تحت ہوتی ہیں۔ بظاہر اس عمل کا مقصد تجربہ کار افراد کی خدمات سے فائدہ اٹھانا بتایا جاتا ہے مگر حقیقت اس سے مختلف ہے۔
ریٹائرڈ افسران اپنی پوری سروس کے بعد نہ صرف مراعات اور پنشن وصول کر چکے ہوتے ہیں بلکہ انہیں وہ تمام مالی حقوق بھی مل چکے ہوتے ہیں جو ایک سرکاری ملازم کو ریٹائرمنٹ پر دیے جاتے ہیں اس کے باوجود جب وہ دوبارہ کسی محکمے میں تعینات ہوتے ہیں تو یہ سوال شدت سے جنم لیتا ہے کہ کیا یہ عمل نوجوانوں کے حق پر ڈاکہ نہیں؟ کیا یہ اُن اہل اور تعلیم یافتہ افراد کے ساتھ ناانصافی نہیں جو برسوں کی محنت کے بعد روزگار اور ترقی کے مواقع کے منتظر ہیں؟
پاکستان میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ ریٹائرڈ افسران کی دوبارہ تعیناتی نہ صرف نوجوانوں کے لیے مواقع محدود کرتی ہے بلکہ اداروں میں نئی سوچ اور جدید طرزِ حکمرانی کے راستے بھی مسدود کر دیتی ہے۔ نوجوان افسران جو ترقی کے خواب لیے میدان میں آتے ہیں وہ جب دیکھتے ہیں کہ اہم عہدے مسلسل انہی افراد کے پاس رہتے ہیں جو اپنی سروس مکمل کر چکے ہیں تو ان میں مایوسی جنم لیتی ہے۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ میرٹ، قابلیت اور نئی مہارتوں کی کوئی قدر نہیں اصل اہمیت تعلقات، اثر و رسوخ اور پرانے نیٹ ورک کی ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ریٹائرڈ افسران خود اس احساس سے گزرتے ہیں کہ ان کی موجودگی نوجوانوں کے لیے رکاوٹ بن رہی ہے؟ کچھ ضرور سمجھتے ہوں گے مگر اکثریت شاید اس نظام کا حصہ بن کر اسے معمول سمجھ چکی ہے۔ اصل مسئلہ شاید ان افراد کا نہیں بلکہ اس نظام کا ہے جو انہیں بار بار واپس بلاتا ہے چاہے ادارے کو واقعی ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔
ریاستی اداروں پر اس عمل کے اثرات بھی کم سنگین نہیں جب نئی نسل کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں ملتا تو اداروں میں جمود پیدا ہوتا ہے۔ اختراع، تبدیلی اور جدید طرزِ حکمرانی کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔ وہی پرانی سوچ، وہی پرانے طریقے اور وہی پرانی ترجیحات اداروں پر حاوی رہتی ہیں نتیجتاً ملک کی انتظامی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور ترقی کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ریٹائرڈ افسران کی تعیناتی کا عمل مکمل طور پر شفاف، ضرورت کے مطابق اور محدود مدت کے لیے ہو۔ ہر تعیناتی کا واضح جواز موجود ہو اور نوجوان افسران کے لیے ترقی کے راستے کھلے رکھے جائیں۔ تجربہ اپنی جگہ قیمتی ہے مگر نئی نسل کی توانائی، مہارت اور جدید سوچ کسی بھی ملک کے مستقبل کی اصل بنیاد ہوتی ہے۔
ریٹائرڈ افسران کا تجربہ قابلِ احترام ہے مگر نوجوانوں کا مستقبل اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ماضی کے تجربے کو ترجیح دیتی ہے یا مستقبل کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتی ہے کیونکہ دونوں کو ایک ساتھ چلانے کے لیے ایک منصفانہ، شفاف اور دوراندیش نظام ناگزیر ہے۔











