پیر,  20 اپریل 2026ء
ذاتی سرکاری استعمال کیلئے 10ارب روپےکا جہاز جبکہ پنجاب ڈولفن فورس پیٹرول کی سہولت سے محروم! پنجاب حکومت کی ترقی یا زوال؟ سوشل میڈیا پر ہنگامہ

لاہور(شہزاد انور ملک) پنجاب میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق حالیہ اطلاعات تشویشناک منظر پیش کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس اور خصوصاً ڈولفن فورس کو بعض انتظامی و مالی مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث خاص طور پر ڈولفن اہلکاروں کو پیٹرول کی دستیابی میں شدید دشواری پیش آ رہی ہے، جس سے ان کی روزمرہ گشت متاثر ہو رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹرول کی عدم دستیابی کے باعث ڈولفن ٹیموں کی گشت میں نمایاں کمی آئی ہے، اور انہیں سڑکوں پر مسلسل متحرک رہنے کے بجائے مخصوص مقامات پر تعینات رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ اس صورتحال کا براہ راست اثر شہری علاقوں میں سکیورٹی اور فوری رسپانس سسٹم پر پڑ رہا ہے، کیونکہ ون فائیو کالز پر بروقت کارروائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

مزید بتایا جاتا ہے کہ پولیس رسپانس یونٹ کی بعض گاڑیوں کی نقل و حرکت بھی محدود ہوئی ہے، جس سے جرائم کی روک تھام کے اقدامات پر اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ تمام صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب مریم نواز کی حکومت اپنی کارکردگی کو ترقیاتی منصوبوں اور گورننس کے دعووں کے ذریعے نمایاں کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم زمینی حقائق ان دعووں کے برعکس نظر آتے ہیں۔ اگر پولیس جیسے اہم ادارے کو بنیادی وسائل فراہم نہیں کیے جا رہے، تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ ترجیحات کیا ہیں اور وسائل کہاں خرچ ہو رہے ہیں۔

حکومت پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ وزیراعلیٰ کے ذاتی یا سرکاری استعمال کے لیے ایک مہنگا جہاز خریدا گیا ہے، جس کی مالیت اربوں روپے بتائی جا رہی ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر وضاحت ضروری ہے، لیکن ایسے الزامات عوامی غصے کو بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ سرکاری ملازمین اپنی تنخواہوں کے لیے پریشان ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

ایک مؤثر حکومت کی پہچان اس کی ترجیحات سے ہوتی ہے۔ جب پولیس اہلکار، جو اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر عوام کی حفاظت کرتے ہیں، مالی مشکلات کا شکار ہوں، تو یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ گورننس کے بحران کی علامت ہے۔ عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ ان کی حفاظت، سہولیات اور فلاح پر خرچ ہوگا، نہ کہ ایسے منصوبوں پر جن کی شفافیت اور ضرورت پر سوال اٹھتے ہوں۔

مزید برآں، پولیس فورس کے اندر پائی جانے والی بے چینی نہ صرف ادارے کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کا اثر مجموعی طور پر امن و امان پر پڑتا ہے۔ اگر اہلکار ذہنی دباؤ کا شکار ہوں اور انہیں اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کرنی پڑے، تو وہ کس طرح مؤثر طریقے سے جرائم کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟

اس تمام صورتحال میں ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر ان مسائل کا نوٹس لے، پولیس کو درکار وسائل فراہم کرے، اور عوام کو شفاف انداز میں جواب دے۔ بصورت دیگر، ترقی کے دعوے محض بیانات تک محدود رہیں گے جبکہ زمینی حقیقت عوام کے لیے مزید مشکلات کا باعث بنتی رہے گی۔

مزید خبریں