اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان میں جمہوریت کے تسلسل اور میڈیا کی جدوجہد کے حوالے سے معروف صحافی عاصمہ شیرازی کے حالیہ بیان نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر دس سال بعد جمہوریت کا واپس آنا اس بات کی علامت ہے کہ عوام نے بالآخر یہ طے کر لیا ہے کہ ان کا مستقبل جمہوری نظام سے ہی وابستہ ہے۔
آر آئی یو جے کے زیراہتمام ایک پروگرام میں انہوں نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی میڈیا کو آزادی کسی نے پلیٹ میں رکھ کر نہیں دی، بلکہ اس کے لیے صحافیوں نے طویل جدوجہد کی ہے۔ ان کے مطابق، صحافیوں نے نہ صرف دباؤ اور سنسرشپ کا سامنا کیا بلکہ کوڑے کھانے سے لے کر اپنی جانوں کی قربانی تک دی، تاکہ سچ کی آواز کو زندہ رکھا جا سکے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی بار بار معطلی کے باوجود عوام کی سوچ میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ اب شہریوں کی بڑی تعداد جمہوری عمل، آئینی بالادستی اور آزاد میڈیا کو ملک کی ترقی کے لیے ناگزیر سمجھتی ہے۔
مزید برآں، ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے عوامی شعور میں اضافہ کیا ہے، جس کے باعث اب کسی بھی غیر جمہوری اقدام کو پہلے کی طرح آسانی سے قبول نہیں کیا جاتا۔ اسی تناظر میں صحافیوں کا کردار مزید اہم ہو گیا ہے، جو نہ صرف معلومات فراہم کرتے ہیں بلکہ عوامی رائے کی تشکیل میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
عاصمہ شیرازی کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر بھی خاصی پذیرائی ملی ہے، جہاں صارفین نے صحافیوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور جمہوریت کے استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔
مبصرین کے مطابق، اگرچہ پاکستان کو اب بھی سیاسی عدم استحکام، ادارہ جاتی کشمکش اور اظہارِ رائے کی آزادی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم عوام اور میڈیا کی مشترکہ جدوجہد جمہوریت کے تسلسل کے لیے امید کی ایک مضبوط کرن ہے۔











