اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں بڑی سیاسی اور سماجی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ اس کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہوئے، جبکہ خطے کو اربوں ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
امریکی جریدے فارن افیئرز کی رپورٹ کے مطابق اس واقعے نے مشرق وسطیٰ میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے بارے میں عوامی رائے کو بڑی حد تک تبدیل کر دیا ہے۔
عرب بارومیٹر کے سروے میں شامل ممالک مصر، عراق، اردن، لبنان، مراکش، فلسطینی علاقے، شام اور تیونس کے عوام نے امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں کو یکطرفہ، غیر منصفانہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
سروے کے نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ خطے کے عوام اب چین، روس اور ایران کو نسبتاً زیادہ قابل اعتماد سمجھنے لگے ہیں۔ عوامی رائے کے مطابق یہ ممالک آزادی، علاقائی سلامتی اور فلسطینی عوام کی حمایت میں امریکا اور یورپی اتحادیوں کے مقابلے میں بہتر کردار ادا کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی پالیسیوں، خاص طور پر اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات کے باعث واشنگٹن کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ زیادہ تر عرب ممالک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو ناپسند کیا جاتا ہے اور ان کی مقبولیت سابق صدر جو بائیڈن کے مقابلے میں بھی کم دیکھی گئی۔
تاہم مراکش اور شام میں ٹرمپ کی پالیسیوں کو نسبتاً زیادہ پذیرائی ملی، جس کی وجہ مغربی صحارا پر مراکش کے مؤقف کی حمایت اور شام کی نئی سیاسی صورتحال قرار دی گئی۔
عرب عوام کی اکثریت کا کہنا ہے کہ امریکا کی پالیسیوں کے باعث اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے، جس نے خطے میں عدم اعتماد کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اسی دوران چین اور روس کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ کی مشرق وسطیٰ پالیسیوں کو متعدد ممالک میں حمایت حاصل ہوئی، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی مقبولیت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایران بھی فلسطینی حمایت اور اسرائیل مخالف مؤقف کی وجہ سے بعض عرب عوام میں نسبتاً زیادہ قابل قبول ہو رہا ہے، اگرچہ اس کے جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ پر تحفظات موجود ہیں۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ عرب عوام اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے حق میں نہیں ہیں، تاہم اگر فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے تو اس میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔
زیادہ تر عرب ممالک میں دو ریاستی حل کو اب بھی مسئلے کا بہترین حل سمجھا جاتا ہے، مگر اسرائیل کی موجودہ پالیسیوں اور مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع نے اس امکان کو کمزور کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کی عالمی ساکھ، خاص طور پر انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے اعتماد میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ اسی طرح عرب عوام نے اقوام متحدہ پر بھی اسرائیل کے حق میں جھکاؤ کا تاثر ظاہر کیا ہے۔
نتیجتاً خطے کے عوام میں نہ صرف امریکا بلکہ عالمی اداروں اور انسانی حقوق کے موجودہ نظام کے بارے میں بھی بڑھتی ہوئی مایوسی دیکھی جا رہی ہے۔










