هفته,  28 مارچ 2026ء
سیکڑوں جعلی امیدواروں کو اسناد جاری ہونے کا انکشاف

میرپور خاص (روشن پاکستان نیوز) میرپور خاص تعلیمی بورڈ میں سیکڑوں جعلی امیدواروں کو اسناد جاری ہونے کا ہوشربا انکشاف سامنے آگیا۔

چیئرمین میرپور خاص تعلیمی بورڈ نے امتحانی نتائج میں ردو بدل اور جعلی اسناد جاری ہونے کی تصدیق کر دی۔ 2021 سے 2025 کے دوران 2539 جعلی امیدواروں کو اسناد جاری کی گئیں۔

تعلیمی بورڈ کے ملازمین اور تعلیمی اداروں کی ملی بھگت سے نمبرز میں غیر قانونی اضافہ، جعلی انرولمنٹ اور رجسٹریشن کے ذریعے امیدواروں کو امتحانات میں شامل کیا گیا۔

تعلیمی بورڈ نے انکشاف کے بعد ایکشن لیتے ہوئے تمام جعلی اسناد اور مارک شیٹس منسوخ کر دیں۔

چیئرمین تعلیمی بورڈ نے ہدایت کی کہ طلبہ ملوث افراد کی نشاندہی کریں، اداروں کو جعلی اسناد پر داخلوں اور مراعات پر نظرثانی کی جائے۔

تعلیمی بورڈ کی طرف سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق متاثرہ طلبہ 30 دن میں بورڈ سے رجوع کریں بصورت دیگر قانونی کارروائی ہوگی۔

عمران خان کا پمز اسپتال میں معائنہ، میڈیکل بورڈ نے بینائی تسلی بخش قرار دیدی

18 مارچ کو میرپور خاص تعلیمی بورڈ میں جعلی سرٹیفکیٹ اسکینڈل پر سندھ حکومت نے بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا تھا۔

جعلی اسناد کے اجرا پر اعلیٰ سطح انکوائری کمیٹی قائم کی گئی جبکہ متعدد افسران کو معطل کیا گیا۔ صوبائی وزیر اسماعیل راہو کی ہدایت پر محکمہ بورڈز اینڈ جامعات نے کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے میٹرک کے جعلی سرٹیفکیٹ اور امتحانی بے ضابطگیوں پر سخت ایکشن شروع کیا۔

سندھ یونیورسٹی کے وی سی پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری انکوائری کمیٹی کے کنوینر مقرر کیے گئے، پروفیسر ڈاکٹر امام الدین کھوسو اور پروفیسر آصف علی میمن کمیٹی کے ارکان شامل ہیں۔

انکوائری کمیٹی کو ایک ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اینٹی کرپشن نے ایف آئی آر کی بنیاد پر آئی ٹی منیجر اعظم خان کو فوری معطل کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق سپرنٹنڈنٹ محمد شاہد معطل جبکہ کنٹرولر امتحانات انور علیم خانزادہ پہلے ہی معطل ہیں۔

صوبائی وزیر اسماعیل راہو نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ تعلیمی اداروں میں کرپشن، جعلسازی اور میرٹ کی پامالی برداشت نہیں کریں گے، انکوائری کمیٹی کو حقائق سامنے لانے کیلیے مکمل اختیارات دے دیے گئے ہیں۔

اسماعیل راہو نے مزید کہا تھا کہ ملوث پائے جانے والے مزید افسران کی خلاف بھی بلا امتیاز کارروائی ہوگی، تعلیمی نظام کی ساکھ بحالی اور شفافیت ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

مزید خبریں