نئی دہلی:(روشن پاکستان نیوز) بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر کے حالیہ بیان کے بعد خطے میں سفارتی بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 25 مارچ 2026 کو ہونے والے ایک آل پارٹیز اجلاس کے دوران بھارتی وزیر خارجہ کی جانب سے استعمال کی گئی زبان کو بعض حلقوں نے غیر پارلیمانی اور غیر سفارتی قرار دیا ہے۔
ایران نے جنگ بندی کیلیے 5 شرائط رکھ دیں
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے حوالے سے امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں کچھ دیگر ممالک کا کردار نمایاں ہو رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بعض مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان، ترکی اور مصر جیسے ممالک خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر متحرک ہیں، جبکہ بھارت اس عمل میں نسبتاً کم نمایاں دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم بھارتی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ماہرین کے مطابق عالمی سفارتکاری میں زبان اور لب و لہجہ نہایت اہمیت رکھتے ہیں، اور اس طرح کے بیانات سے نہ صرف داخلی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں مختلف ممالک اپنی اپنی سفارتی حکمت عملی کے تحت کردار ادا کر رہے ہیں، اور کسی ایک ملک کے کردار کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا یا بڑھا چڑھا کر پیش کرنا درست نہیں ہے۔
مبصرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون، سنجیدہ سفارتکاری اور متوازن بیانات ہی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔











