اتوار,  15 مارچ 2026ء
پانچویں شادی: شریعت اور قانون کا مذاق ایک لمحۂ فکریہ….
میں اور میرا دوست

حال ہی میں شجاع آباد کے حکیم شہزاد عرف “لوہا پاڑ” کی پانچویں شادی کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو پورے معاشرے میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی۔ اس شادی کی خبر نے صرف لوگوں کو حیران ہی نہیں کیا بلکہ کئی سنجیدہ سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا کوئی شخص کھلے عام شریعت اور پاکستان کے قانون دونوں کو نظر انداز کر سکتا ہے؟

اسلامی شریعت میں نکاح کو ایک مقدس اور ذمہ داری پر مبنی رشتہ قرار دیا گیا ہے۔ اسلام نے مرد کو بیک وقت زیادہ سے زیادہ چار شادیوں کی اجازت دی ہے، وہ بھی سخت شرائط کے ساتھ۔ قرآن کریم میں واضح ہدایت ہے کہ بیویوں کے درمیان مکمل انصاف اور مساوات قائم رکھنا ضروری ہے، اور اگر انصاف کا خوف ہو تو ایک ہی شادی پر اکتفا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ ایسے میں پانچویں شادی کا دعویٰ نہ صرف شرعی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ دین کے نام پر ایک سنگین غلط مثال بھی پیش کرتا ہے۔

یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص چار بیویوں کے ہوتے ہوئے پانچویں شادی کر رہا ہے تو وہ کس شریعت کا حوالہ دے رہا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے اقدامات دین کو بدنام کرنے کا سبب بنتے ہیں اور لوگوں کے ذہنوں میں اسلام کے بارے میں غلط تاثر پیدا کرتے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کے خاندانی قوانین بھی اس معاملے میں بالکل واضح ہیں۔ پاکستان میں دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی یا بیویوں کی اجازت اور ثالثی کونسل کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ اگر یہ قانونی تقاضے پورے نہ کیے جائیں تو ایسی شادی قانون کی نظر میں بھی قابلِ اعتراض ہوتی ہے۔ اس پس منظر میں پانچویں شادی کا دعویٰ محض ایک ذاتی معاملہ نہیں بلکہ قانون کی کھلی خلاف ورزی کا سوال بن جاتا ہے۔

اس خبر کا ایک اور تشویشناک پہلو دلہن کی عمر اور تعلیم سے متعلق ہے۔ اگر واقعی لڑکی نویں جماعت کی طالبہ ہے تو یہ بات معاشرے کے لیے مزید تشویش کا باعث بنتی ہے۔ تعلیم کے حصول کی عمر میں شادی کر دینا اور پھر اسے تعلیم جاری رکھنے کا جواز بنانا ایک کمزور اور غیر سنجیدہ دلیل محسوس ہوتی ہے۔ اگر واقعی کسی طالبہ کو ڈاکٹر بنانا مقصود ہے تو اس کے لیے بہترین راستہ تعلیم اور حوصلہ افزائی ہے، نہ کہ جلد بازی میں شادی۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل کچھ لوگ شادی جیسے سنجیدہ اور مقدس رشتے کو بھی سوشل میڈیا کی نمائش اور شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔ اس طرح کے واقعات نہ صرف معاشرتی اقدار کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ مذہبی تعلیمات کا مذاق بھی بناتے ہیں۔

یہ معاملہ واقعی ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر معاشرے میں کوئی شخص کھلے عام شریعت اور قانون دونوں کی دھجیاں اڑا رہا ہو اور ہم اسے محض ایک دلچسپ خبر سمجھ کر نظر انداز کر دیں تو یہ اجتماعی بے حسی کی علامت ہوگی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی ادارے اور متعلقہ حکام ایسے معاملات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ اگر قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کا احتساب ہونا چاہیے تاکہ آئندہ کوئی شخص مذہب اور قانون دونوں کو اپنی ذاتی خواہشات کے مطابق استعمال کرنے کی جرات نہ کرے۔

معاشرہ اسی وقت مضبوط ہوگا جب نکاح کو ذمہ داری، احترام اور انصاف کے اصولوں کے تحت دیکھا جائے گا۔ ورنہ ایسے واقعات نہ صرف معاشرتی اقدار کو مجروح کرتے رہیں گے بلکہ شریعت اور قانون دونوں کا وقار بھی مجروح ہوتا رہے گا۔

مزید خبریں