اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز): وزیر اعطم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ اجلاس میں مختلف شعبہ جاتی پالیسیز کی منظوری دی گئی۔
کابینہ اجلاس کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ ممبران کو پاکستان کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کیلیے سفارتی کاوشوں سے آگاہ کیا، جبکہ عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بحران کے باوجود عوامی سہولت کیلیے صورتحال کو ہر ممکن بہتر انداز میں سنبھالنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اعلامیے کے مطابق وفاقی کابینہ اجلاس کے ایجنڈا پر موجود مختلف شعبہ جاتی پالیسیز کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں ملکی سطح پر ویکسین کی تیاری کی پالیسی، ملک کی پہلی نیشنل ایگریکلچر بائیو ٹیکنالوجی پالیسی، نیشنل سیڈ پالیسی اور نیشنل سکلز ڈیویلپمنٹ پالیسی کی منظوری دی گئی۔
وفاقی کابینہ نے ملکی سطح پر ویکسین کی تیاری کی پالیسی کی منظوری دی گئی۔ اس تناظر میں DRAP کی زیرِ نگرانی قیمتوں کے تعین اور معیار کو یقینی بنانے کیلیے خصوصی کمیٹی کی تشکیل کی بھی منظوری دی گئی۔ پالیسی کا مقصد ویکسین کی مد میں درآمدات پر انحصار کم کرنا، قیمتی زرمبادلہ کی بچت اور ملک کو ویکسین کی تیاری میں خود کفیل کرنا ہے۔
کابینہ نے وفاقی نظامت تعلیم (FDE) میں یومیہ اجرت پر خدمات سر انجام دینے والے گریڈ 1 تا 15 کے اساتذہ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ان کی اہلیت کے مطابق FDE (Visiting Faculty) Regulations 2025 کے تحت ان کی خدمات بطور وزٹنگ فیکلٹی لیے جانے کی منظوری دی گئی۔
ادویات کی آن لائن تشہیر، ڈریپ کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز بلاک کرنے کی درخواست
اجلاس میں نیشنل سکلز ڈیویلپمنٹ پالیسی کی بھی منظوری دی گئی، پالیسی کے تحت ملکی صنعت و تجارت کی ضرویات اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق افرادی قوت کی استعداد کار کو ہم آہنگ کرنے کیلیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ مزید براں، بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کیلیے بین الاقوامی معیار کی تربیت اور سرٹیفیکیشن کیلیے خصوصی اقدامات بھی پالیسی کا حصہ ہیں، وفاق اور تمام صوبے اس تناظر میں باہمی تعاون سے کام کریں گے، نجی شعبہ بھی اس پالیسی پر عمل درآمد کا اہم حصہ ہوگا۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ ملک کی پہلی نیشنل ایگریکلچر بائیو ٹیکنالوجی پالیسی کی بھی اجلاس میں منظوری دی گئی، اس پالیسی کا مقصد قومی غذائی تحفظ، زرعی پیداور میں خاطر خواہ اضافہ اور زرعی شعبہ میں تحقیق و ترقی اور مؤثر حکمت عملی کو یقینی بنانا ہے۔
اجلاس میں نیشنل سیڈ پالیسی 2025 کی بھی اصولی منظوری دی گئی۔ پالیسی کا مقصد غذائی تحفظ اور کسانوں کو بااختیار بنانا ہے، اس کے تحت 15 سے 20 فیصد زرعی پیداوار میں اضافہ اور عالمی معیار کی سیڈ کمپنیز کے ساتھ شراکت داری کیلیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
علاوہ ازیں، وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نیپرا کی سالانہ رپورٹ 2025 اور اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2025 بھی پیش کی گئی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ عمران احمد شاہ کی والدہ کے انتقال پر فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔











