جمعه,  13 مارچ 2026ء
اسرائیل کے صدر نے ٹرمپ کے بیان کو اسرائیل کی سلامتی پر حملہ قرار دے دیا
اسرائیل کے صدر نے ٹرمپ کے بیان کو اسرائیل کی سلامتی پر حملہ قرار دے دیا

تل ابیب(روشن پاکستان نیوز) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنے دوست اسرائیل کے پرائم منسٹر نیتن یاہو کو کرپشن کے مقدمات میں عام معافی دینے کے لئے مسلسل بک بک سے عاجز آ کر اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ بالآخر بول پڑے اور ٹرمپ کی تنقیدوں کو اسرائیل کی  ساورینٹی پر حملہ قرار دے دیا۔ ٹرمپ نے  بدھ کے روز ایک انٹرویو میں صدر ہرزوگ کو “کمزور اور قابل رحم” قرار دیا ہے، کیونکہ وہ نیتن یاہو کو معافی دینے کی ٹرمپ کی درخواستوں کو مسلسل نظرانداز کر رہے ہیں۔

صدر ہرزوگ پرائم منسٹر نیتن یاہو کو کرپشن کے مقدمات میں عام معافی دینے کا قانونی اختیار رکھتے تو  ہیں لیکن ان کا کبھی ایسا کوئی ارادہ نہیں رہا کہ نیتن یاہو کے عدالت میں کئی سال سے سست رفتار سے گھسٹ رہے مقدمات کو ختم کرنے کا حکم دے دیں اور نیتن یاہو کو کرپشن کے سنگین الزامات پر معافی دے دیں۔ ٹرمپ نے اس معافی کے لئے بہت دباؤ ڈالا، بار بار درخواستیں کیں لیکن اسرائیل کی وزارتِ قانون ٹس سے مس نہیں ہوئی اور صدر ہرزوگ نے تو  ٹرمپ کی درخواستوں کو جواب دینے کے قابل تک نہیں گردانا۔

ٹرمپ کی جانب سے صدر ہرزوگ کا نام لے کر انہیں ‘کمزور اور قابل رحم’ قرار دینے کے کی حرکت میڈیا میں ڈسکس ہونے کے  بعد،صدر  ہرزوگ نے ​​ ٹرمپ کو براہ راست تو کچھ نہیں کہا لیکن اشارہ کیا کہ نیتن یاہو کو ٹرمپ کو  پیچھے دھکیلنا چاہیے تھا۔

ٹائمز آف اسرائیل کے لعزر برمن نے رپورٹ کیا کہ  بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی معافی کی درخواست کو سنبھالنے میں انہیں “کمزور اور قابل رحم” کہنے کے بعد، صدر اسحاق ہرزوگ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی “وقار، آزادی اور خودمختاری” برائے فروخت نہیں ہے۔

لعزر برمن کی رپورٹ کے مطابق (صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد) نیتن یاہو سے گزشتہ رات ایک پریس کانفرنس کے دوران (نیتن یاہو اور اسرائیل کی) توہین کے بارے میں پوچھا گیا، تو نیتن یاہو نےکہا کہ “امریکی صدور اپنے دل کی بات کہنے کے حقدار ہیں،”  نیتن یاو نے خود کے خلاف کرپشن کے مقدموں  کو سیاسی  وِچ ہنٹ  قرار دیا اور صدر  ہرزوگ سے کہا کہ “صحیح کام کریں” اور اسے ختم کریں۔

لعزر برمن کی رپورٹ کے مطابق صدر ہرزوگ کا کہنا ہے کہ “مختلف مسائل پر کئی دہائیوں سے جاری سیاسی اور قانونی اختلافات — یہاں تک کہ ہمارے اتحادیوں کے ساتھ بھی — اور ریاست اسرائیل کی حکمرانی اور خودمختاری کی علامتوں پر کھلے عام حملے میں فرق ہے۔” “اس معاملے پر ایک بیان دینا ضروری ہے۔”

عام طور پر مستحکم سربراہ مملکت تصور کئے جانے والے اسحاق ہرزوگ نے بتایا کہ معافی کی درخواست پر ٹرمپ کی بار بار توہین “ریاست اسرائیل کی حکمرانی اور خودمختاری کی علامتوں پر ایک صریح حملہ ہے۔”

“میں اپنی عزت نہیں بلکہ ریاست کی عزت چاہتا ہوں،”  بیت زریر کے بیڈوین قصبے میں ایرانی میزائل حملے کے مقام پر  وزٹ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر ہرزوگ نے کہا۔

انہوں نے کہا، ’’ہماری عزت، آزادی اور خودمختاری کسی کے لیے فروخت نہیں‘‘۔

صدر ہرزوگ نے ٹرمپ کی بار بار کی درخواستوں کے معاملہ پر اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا،  “میں، یقیناً، معافی کی درخواست کے آنے پر، انتہائی آزادانہ اور آزادانہ انداز میں — بغیر کسی دباؤ اور کسی بھی سمت سے شور کے بغیر — صاف ذہن اور صاف ہاتھوں کے ساتھ اس پر توجہ دوں گا۔”  لیکن صورتحال یہ ہے کہ وزارتِ انصاف کے اہلکار ہی اس طرح کی کسی معافی کی درخواست کو پروسیس کر کے صدر ہرزوگ کی ٹیبل تک لے جانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

“انہیں کسی قانونی رائے کی ضرورت نہیں ہے،” ٹرمپ نے بدھ کو ایک فون انٹرویو میں ہرزوگ کے بارے میں کہا تھا۔ “وہ گھٹیا پن سے بھرا ہوا ہے۔ وہ ایک کمزور اور قابل رحم آدمی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ بی بی [نیتن یاہو] کی توجہ جنگ پر مرکوز رہے – بدتمیزی پر نہیں۔”

ٹرمپ نے اپنے جاری مجرمانہ بدعنوانی کے مقدمے میں نیتن یاہو کو معافی جاری کرنے سے اب تک گریز  پر ہرزوگ کو  پہلے بھی بار بار تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی، ٹرمپ نے وزیر اعظم کو معاف نہ کرنے پر ہرزوگ کو “بے عزتی” قرار دیا۔

پریس کانفرنس کے دوران، نیتن یاہو نے اپنے الزام کو دہرایا کہ ان کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ  سیاسی وِچ ہنٹ ہے، اور کہا کہ ٹرمپ اس تشخیص سے متفق ہیں۔

وزیر اعظم نیتن یاہو  اس وقت رشوت خوری، دھوکہ دہی اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانےکے الزامات کے تحت مقدمات کی سماعت بھگت رہے ہیں، تین الگ الگ مقدمات میں جن میں غیر قانونی تحائف وصول کرنے اور مثبت میڈیا کوریج کے لیے سیاسی مفادات کی تجارت  کے مقدمےشامل ہیں۔

ٹرمپ نے نیتن یاہو کو معاف نہ کرنے پر  اسرائیل کے صدرہرزوگ پر بار بار حملہ کیا ہے، اور  صدر ہرزوگ  کے خلاف تیزی سے سخت زبان استعمال کی ہے،۔

ٹرمپ نے  بدھ کے روز ایک انٹرویو میں صدر ہرزوگ کو “کمزور اور قابل رحم” قرار دیا  تو ٹرمپ کی اس حرکت کو اسرائیل میں ‘کافی سے زیادہ’ سمجھا گیا۔

صدر ہرزوگ نے ​​ٹرمپ کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایک خودمختار ریاست ہے جس کے اندرونی معاملات کا فیصلہ واشنگٹن نہیں کرے گا۔ نیتن یاہو کے مخالف بار بار یہ کہتے رہے ہیں کہ  وزیر اعظم  نیتن یاہو نے ہی ٹرمپ ن سے کہا ہے کہ وہ صدر  ہرزوگ پر نیتن یاہو کی معافی کے لیے دباؤ ڈالیں۔

صدر ہرزوگ کے پبلک میں ٹرمپ کے توہین آمیز باتوں کو اسرائیل کی ساورنٹی پر حملہ قرار دینے کے بعد  نیتن یاہو کی پوزیشن زیادہ مخدوش ہو گئی ہے۔ اسرائیلی عوام انہیں ایران کے خلاف جنگ میں تو  کسی اقدام پر اب تک تنقید نہیں کی لیکن مقدمات میں معافی حاصل کرنے کے لئے ٹرمپ سے اسرائیل پر نازیبا دباؤ ڈلوانے پر نیتن یاہو کو عوام کی تنقید کا سامنا ہے جو صدر ہرزوگ کے بیان کے بعد مزید بڑھے گی۔

مزید خبریں