اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) سینئر سیاست دان مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اس جنگ سے ہل گئے ہیں لیکن کہہ نہیں پا رہے، اس جنگ نے صدر ٹرمپ کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔
سینئر سیاست دان مشاہد حسین سید نےنجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ جنگی صورتحال پر اہم انکشافات کیئے.
مشاہد حسین سید نے کہا جنگ کا آغاز امریکہ اور اسرائیل نے کیا تھا لیکن اب اس کا کنٹرول ایران کے پاس ہے، ایران اس وقت تزویراتی لحاظ سے مضبوط پوزیشن یعنی ‘ڈرائیونگ سیٹ’ پر ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش ہر انہوں نے بتایا کہ تزویراتی طور پر اہم ‘آبنائے ہرمز’ گزشتہ 10 روز سے بند ہے، جس نے عالمی تجارتی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
سینئر سیاست دان کا کہنا تھا کہ ایران نے آج صبح ایک نیا میزائل فائر کیا ہے جسے ‘ایبسٹین میزائل’ کا نام دیا گیا ہے، سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ایرانی قوم پہلے سے زیادہ متحد ہو چکی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: وزیراعظم ہنگامی سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ
انھوں نے کہا ٹرمپ اس جنگ سے ہل گئے ہیں لیکن کہہ نہیں پارہے کہ ایران یہ جنگ جیت چکاہے، اس جنگ نے صدرٹرمپ کا سیاسی مستقبل داؤپرلگادیاہے۔۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو گزشتہ ایک ہفتے سے خاموش ہیں اور کوئی بیان نہیں دے رہے۔
انھوں نے پیش گوئی کی ہے کہ “ٹرمپ نیتن یاہو کو ڈچ کر دیں گے” کیونکہ اسرائیلی وزیراعظم نے ٹرمپ کو ایک ایسی جنگ میں پھنسا دیا ہے جو ختم ہونے والی نہیں ہے۔
سینئر سیاست دان نے دعویٰ کیا سعودی عرب اور ایران کے درمیان بیک چینل رابطے شروع ہو چکے ہیں اور امید ہے عرب ممالک اور ایران کے معاملات جلد حل ہو جائیں گے کیونکہ وہ پڑوسی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اس بار کسی بھی بین الاقوامی ضمانت کے بغیر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے، اور خطے کی سیاست اب ایک نئے موڑ پر داخل ہو چکی ہے۔











