منگل,  10 مارچ 2026ء
قومی اسمبلی میں بلز کی منظوری، حکومتی اتحادی جماعتیں آمنے سامنے!

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں شروع ہوا جس میں ایوان نے متعدد اہم قانون سازی کی منظوری دے دی

اجلاس کے دوران قومی اسمبلی نے مجموعہ فوجداری ترمیمی بل 2025 منظور کرلیا جبکہ پاکستان کے نام نشانات کے غیر مجاز استعمال کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل 2025 بھی ایوان سے منظور کرلیا گیا۔ اسی طرح قومی اسمبلی نے لازمی تھیلیسمیا اسکریننگ بل 2025 بھی منظور کرلیا۔

لازمی تھیلیسمیا اسکریننگ بل 2025 کے متن کے مطابق شادی سے پہلے میاں بیوی کے لیے تھیلیسمیا ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ نکاح خواں اگر تھیلیسمیا ٹیسٹ کے بغیر نکاح رجسٹرڈ کرے گا تو اس کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا اور اس پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد ہوگا۔

یہ بل پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے پیش کیا جبکہ جے یو آئی کی رکن نعیمہ کشور کی ترمیم مسترد کر دی گئی۔

اجلاس کے دوران قومی اسمبلی نے سول ملازمین ترمیمی بل 2024 بھی منظور کرلیا جو پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے پیش کیا۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے جے یو آئی پر حکومت سے مک مکا کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی نے حکومتی بلز پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے جبکہ ارکان کے نجی بلز کی مخالفت کی جا رہی ہے۔

سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے عید الفطر سے قبل بڑی خوشخبری

اس پر جے یو آئی کی رکن عالیہ کامران نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب پیپلز پارٹی اپنے بلز پر حکومت پر مک مکا کرتی ہے تو اس وقت کہاں ہوتے ہیں۔

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن نے سول ملازمین بل کو آئین کی روح کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی کوٹہ سسٹم نے ملک کا بیڑا غرق کیا ہوا ہے اور اس میں مزید اقلیتیوں اور دیگر کے کوٹے شامل کیے جا رہے ہیں جبکہ بل میں خواتین کے کوٹے بھی ڈالے جا رہے ہیں۔

بعد ازاں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تجویز پر بل کو منظوری کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔

قومی اسمبلی نے نصاب تعلیم، درسی کتب اور تعلیمی معیارات کی وفاقی نگرانی سے متعلق ترمیمی بل 2026 بھی منظور کرلیا۔

اجلاس کے دوران حکومتی اتحادی جماعتیں بھی آمنے سامنے آ گئیں جب پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کے ایک بل کی مخالفت کر دی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے خواجہ اظہار الحسن کے بل پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس بل کو منظور نہ کیا جائے اور اس پر مزید غور کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر خواجہ اظہار الحسن نے مؤقف اختیار کیا کہ بل کمیٹی سے پاس ہو چکا ہے، اسے منظور کیا جائے۔ ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ نے بل مؤخر کرنے کی تجویز دی جس کی وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہیں۔

خواجہ اظہار الحسن نے مؤقف پیش کیا کہ دوران ڈکیتی اور سنیچنگ قتل کے مقدمات انسداد دہشتگردی عدالت میں چلائے جائیں، تاہم نوید قمر نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ قتل کسی بھی نوعیت کا ہو اسے سول یا سیشن جج کو دیکھنا چاہیے کیونکہ انسداد دہشتگردی عدالتیں خاص مقاصد کے لیے بنائی گئی ہیں اور اس سے ان عدالتوں پر اضافی بوجھ پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ پھر کہیں انسداد دہشتگردی کے کیسز فوجی عدالتوں کو بھی نہ بھیج دیے جائیں۔

بحث کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے بل کی منظوری مؤخر کر دی جس پر ایم کیو ایم کے ارکان نے احتجاج کیا اور بعد ازاں ایم کیو ایم کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔

دوارنِ اجلاس اپوزیشن رکن جنید اکبر خان نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ہم پر مسلط حکومت نے بورڈ آف پیس میں جانے کے وقت اس پارلیمان سے نہیں پوچھا ۔ حکومت نے ایران کے مسئلے پر ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا۔ ہمارا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ امریکہ کے ایما پر کیا گیا  ہے۔ لگ رہا ہے کہ سعودی عرب کے دفاع کے نام پر ہمیں ایک اور جنگ میں گھسیٹا جارہا ہے ۔  جب حکومت عوام کے ووٹوں سے آئی نہیں ہے تو عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت نہیں۔

پیپلز پارٹی کے رکن فتح اللہ خان نے کہا کہ ڈی آئی خان کے مسائل کو دیکھ کر بجٹ نہ بنایا گیا تو ایوان میں بھوک ہڑتال کروں گا ۔ ہر بار حکومت بجٹ اس علاقے کے نمائندوں کو پوچھے بغیر بنا دیتی ہے ۔  دریائے سندھ ہر سال زرعی زمین بہالے جاتا ہے ۔  سال 2022میں وزیر اعظم نے ڈیرہ کے سیلاب زدگان کے لیے اعلانات کیے، مگر عمل نہیں ہوا ۔ل پی پی سے زیادتی ہوتی رہی تو میں اس پارلیمان کے باہر بھوک ہڑتال کروں گا۔

مزید خبریں