تحریر: محمد مدثر حسین خٹک
mudasserhussain890@gmail.com
انسانی تاریخ کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ تلخ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ انسان نے امن سے زیادہ جنگیں لڑی ہیں۔ بیسویں صدی نے دو عظیم عالمی جنگوں کا وہ ہولناک منظر دیکھا جس میں کروڑوں انسان لقمہ اجل بنے، ہنستے بستے شہر کھنڈرات میں تبدیل ہوئے اور ہیروشیما و ناگاساکی پر گرنے والے ایٹم بموں نے انسانیت کی روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد اقوامِ متحدہ (UN) کا قیام اسی امید کے ساتھ عمل میں لایا گیا تھا کہ اب دنیا کو کسی نئی جنگ کی بھٹی میں نہیں جھونکا جائے گا۔ مگر آج، اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں، عالمی منظرنامہ اس قدر خوفناک ہو چکا ہے کہ ہر باشعور شخص اور عالمی امور کا قاری یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا دنیا ایک بار پھر تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے؟اگر ہم آج کے عالمی نقشے پر نظر دوڑائیں تو دنیا اس وقت بارود کے ایک ایسے ڈھیر پر بیٹھی ہے، جسے بھڑکنے کے لیے محض ایک چھوٹی سی چنگاری کی ضرورت ہے۔ اس وقت دنیا میں تین بڑے اور انتہائی خطرناک “فلیش پوائنٹس” (Flashpoints) ہیں، جو کسی بھی وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
اس وقت دنیا کا سب سے حساس اور خطرناک ترین خطہ مشرقِ وسطیٰ ہے۔ غزہ اور فلسطین میں جاری انسانیت سوز مظالم اور طویل ہوتی جنگ نے پورے خطے کو ایک آتش فشاں بنا دیا ہے۔ یہ تنازع اب محض دو فریقین تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کی آگ لبنان، شام، یمن اور ایران تک پھیل چکی ہے۔ بحیرہ احمر (Red Sea) میں ہونے والے حملوں نے عالمی تجارت اور سپلائی چین کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ اگر اس خطے میں طاقت کا توازن بگڑتا ہے اور علاقائی قوتوں کے درمیان براہِ راست اور وسیع تصادم ہوتا ہے، تو مغربی طاقتیں اس جنگ میں براہِ راست کود پڑیں گی، جو تیسری عالمی جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو سکتا ہے۔
مشرقی یورپ میں روس اور یوکرین کی جنگ کو طویل عرصہ گزر چکا ہے لیکن یہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ درحقیقت، عسکری و سیاسی ماہرین اسے دو ممالک کی جنگ نہیں، بلکہ روس اور مغربی فوجی اتحاد (NATO) کے درمیان ایک خطرناک “پراکسی وار” (Proxy War) قرار دیتے ہیں۔ اربوں ڈالر کا جدید ترین اسلحہ اس جنگ میں جھونکا جا چکا ہے۔ روسی قیادت کی جانب سے بارہا یہ واضح تنبیہ کی جا چکی ہے کہ اگر ان کی سالمیت کو بقا کا خطرہ لاحق ہوا تو وہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے گریز نہیں کریں گے۔ یہ دھمکی پوری دنیا کی بقا کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔تیسرا اور سب سے بڑا محاذ ایشیا پیسیفک کے خطے میں تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین (South China Sea) کا ہے۔ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں اس خطے میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ اگر اس خطے میں کوئی عسکری مہم جوئی ہوتی ہے، تو یہ صرف جغرافیائی جنگ نہیں ہوگی بلکہ عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سپلائی چین (خاص طور پر سیمی کنڈکٹرز اور مائیکرو چپس) کو مکمل طور پر تباہ کر دے گی، جس کا اثر دنیا کے ہر کمپیوٹر اور موبائل فون تک پہنچے گا۔
عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر آج تیسری عالمی جنگ چھڑتی ہے تو یہ پچھلی جنگوں کی طرح خندقوں میں نہیں لڑی جائے گی۔ یہ جنگ سائبر اٹیکس (Cyber Attacks)، مصنوعی ذہانت (AI)، اور ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے لڑی جائے گی۔ دشمن کے پاور گرڈز، بینکنگ سسٹم، اور مواصلاتی نظام کو چند کلکس (Clicks) کی مدد سے ہیک کر کے پورے کے پورے ممالک کو پتھر کے دور میں دھکیل دیا جائے گا۔ اور سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ آج دنیا کے کئی ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ ایک چھوٹی سی غلط فہمی یا کمپیوٹر کا ایک غلط سگنل اس خوبصورت دنیا کو ایٹمی راکھ کے ڈھیر میں بدل سکتا ہے۔ان عالمی محاذ آرائیوں اور سپر پاورز کی لڑائیوں کا سب سے زیادہ نقصان تیسری دنیا اور ترقی پذیر ممالک کے غریب عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ آج کی دنیا معاشی طور پر ایک زنجیر کی طرح جڑی ہوئی ہے۔ جب عالمی منڈی کے تجارتی راستے روکے جاتے ہیں، یا یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل منڈلاتے ہیں، تو عالمی منڈی میں خام تیل، گیس، اور گندم کی سپلائی متاثر ہوتی ہے اور قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔
یہ ایک بہت بڑا عالمی المیہ ہے کہ سپر پاورز اپنے جغرافیائی تسلط، اسلحے کی فروخت اور انا کی جنگ لڑتی ہیں، لیکن اس کا خمیازہ ترقی پذیر ممالک کے غریب مزدور اور سفید پوش طبقے کو بھگتنا پڑتا ہے۔ جب بین الاقوامی سطح پر پیٹرول اور توانائی مہنگی ہوتی ہے تو غریب ممالک میں ٹرانسپورٹ، ادویات، اور روزمرہ کی بنیادی اشیاء (آٹا، چینی، خوردنی تیل) عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہیں۔ میزائل کسی امیر ملک کے چلتے ہیں، لیکن بھوکا تیسری دنیا کا غریب بچہ سوتا ہے۔دنیا اب کسی نئی عالمی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ موسمیاتی تبدیلیاں (Climate Change)، غربت، اور معاشی عدم مساوات پہلے ہی انسانیت کی بقا کے لیے سنگین ترین چیلنجز ہیں۔ اقوامِ متحدہ، جو اس وقت عالمی تنازعات کو روکنے میں بری طرح ناکام نظر آ رہا ہے، اسے اپنا کھویا ہوا وقار بحال کرنا ہوگا۔
عالمی طاقتوں اور ان کے پالیسی سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جدید دور کی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا، بلکہ سبھی ہارے ہوئے ہوتے ہیں۔ سفارتکاری اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں جو دنیا کو اس تباہی سے بچا سکتے ہیں۔ اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے اور دنیا کو بارود کی اس بھٹی میں دھکیل دیا گیا، تو شاید تاریخ لکھنے کے لیے کوئی انسان باقی نہ بچے۔











