کراچی(روشن پاکستان نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی، خصوصاً ایران، اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے عالمی حالات کو متاثر کیا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہے بلکہ بین الاقوامی فضائی سفر، تجارت اور سفارتی سرگرمیوں پر بھی اس کے نمایاں اثرات سامنے آئے ہیں۔ ایسے حساس حالات میں پاکستان نے ایک ذمہ دار اور سنجیدہ ریاست کے طور پر مثبت کردار ادا کیا ہے۔
جب مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں سکیورٹی خدشات کے باعث فضائی حدود محدود یا عارضی طور پر بند کی گئیں تو بہت سی بین الاقوامی پروازوں کو متبادل راستوں اور محفوظ ہوائی اڈوں کی ضرورت پیش آئی۔ ایسے وقت میں پاکستان کے بڑے ہوائی اڈوں، خصوصاً جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت دیگر ہوائی اڈوں نے کئی ممالک کی پروازوں کے لیے محفوظ سہولت فراہم کی۔
خلیجی خطے میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے جہاں عام حالات میں ہر چند لمحوں بعد طیاروں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے۔ لیکن موجودہ کشیدہ حالات میں جب بعض علاقوں میں فضائی سرگرمیاں متاثر ہوئیں تو متعدد طیاروں کو متبادل اور محفوظ مقامات کی ضرورت پڑی۔
’ایران کے خلاف غیر ضروری جنگ لڑی جارہی ہے‘ برطانوی انٹیلیجنس چیف کا بڑا انکشاف
اس صورتحال میں پاکستان نے اپنی فضائی حدود کو ذمہ داری کے ساتھ کھلا رکھا اور مختلف ممالک کی پروازوں کو ہنگامی بنیادوں پر لینڈنگ کی اجازت دی۔ پاکستان کے ہوائی اڈوں پر نہ صرف طیاروں کو محفوظ طور پر اتارنے کی سہولت فراہم کی گئی بلکہ مسافروں اور فضائی عملے کے قیام، آرام اور دیگر ضروری سہولیات کا بھی انتظام کیا گیا تاکہ انہیں غیر یقینی صورتحال میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
پاکستان کے متعلقہ اداروں اور فضائی حکام نے پیشہ ورانہ مہارت اور فوری ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے صورتحال کو مؤثر انداز میں سنبھالا۔ اس کے نتیجے میں کئی ممالک کی پروازوں اور مسافروں کو عارضی سہارا ملا اور عالمی فضائی نظام کو ایک محفوظ متبادل راستہ بھی دستیاب رہا۔
یہ صورتحال اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتی ہے کہ دنیا میں طاقت، ترقی اور عروج ہمیشہ مستقل نہیں رہتے۔ حالات کسی بھی وقت بدل سکتے ہیں اور جو ممالک آج ترقی کے عروج پر ہوتے ہیں وہ بھی کسی وقت مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔ ایسے مواقع پر وہی ممالک حقیقی احترام حاصل کرتے ہیں جو مشکل وقت میں دوسروں کا ساتھ دیتے ہیں۔
پاکستان نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ صرف اپنے مفادات تک محدود نہیں بلکہ عالمی برادری کے ساتھ تعاون اور انسانیت کے اصولوں کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ ایران، اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات اور تعاون اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور انسانی ہمدردی کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔
یہی کردار پاکستان کی عالمی ساکھ کو مضبوط بناتا ہے اور دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ مشکل وقت میں انسانیت، تعاون اور باہمی احترام ہی اصل طاقت ہوتے ہیں۔











