جمعرات,  26 فروری 2026ء
رمضان ٹرانسمیشنز: اسلامی تشخص کی پامالی اور معیارِ نشر میں گراوٹ

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان میں رمضان المبارک کا مہینہ ہر سال روحانی اور معاشرتی لحاظ سے خاص اہمیت رکھتا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں رمضان ٹرانسمیشنز نے اس مقدس ماہ کے اصل مقصد کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے نشر و اشاعت کے معیار میں انتہائی منفی رجحان اختیار کر لیا ہے۔ ان پروگرامز میں بڑھتی ہوئی غیر ضروری گفتگو، شادی شدہ جوڑوں کی ذاتی زندگی پر تبصرے، اور تجارتی مواد کی بھرمار نے عوام میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔

ماہِ رمضان کو عام طور پر عبادت، قرآنی تعلیمات، اور اجتماعی افطاری جیسے روحانی و اخلاقی پہلوؤں کے فروغ کے لیے مختص کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن موجودہ دور میں متعدد نجی ٹی وی چینلز اور آن لائن پلیٹ فارمز نے رمضان ٹرانسمیشنز کو ایک تجارتی مشین بنا دیا ہے۔ پروگرامز میں شادی شدہ جوڑوں کی ذاتی زندگی، ان کی عادات اور معمولات پر گفتگو کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے کہ یہ اسلامی تعلیمات کے منافی اور شرمناک محسوس ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ موضوعات باقی گیارہ ماہ میں بھی زیرِ بحث رہ سکتے ہیں، لیکن رمضان کی روحانیت اور احترام کے پیش نظر اس وقت اس پر گفتگو مناسب نہیں۔

کئی پروگرامز میں تجارتی مقاصد کے لیے اشیاء کی نمائش اور اشتہارات کو افطار کے روحانی ماحول میں شامل کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر مریم نواز کی جانب سے فراہم کیے گئے افطاری کے ڈبے، جن پر پروگرامز میں تصاویر اور پرنٹ شدہ مواد دکھایا گیا، ان کی قیمت کھانے کی اصل قدر سے کہیں زیادہ پیش کی گئی۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف عوام کی توجہ عبادت سے ہٹا کر تجارتی اشیاء کی طرف مبذول کراتے ہیں بلکہ رمضان کی اصل روح کے ساتھ بھی غیر اخلاقی سلوک ہے۔

خیبرپختونخوا: رمضان میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ، 20 سے زائد اہلکار شہید

چینلز کی بھرمار اور غیر معیاری مواد نے رمضان ٹرانسمیشنز کے اسلامی تشخص کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ پروگرامز میں شوخ و چُلبلا انداز اختیار کرنے، مبالغہ آرائی اور نامناسب گفتگو کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی گئی۔ اس سے نہ صرف بچوں اور نوجوانوں پر منفی اثر پڑ رہا ہے بلکہ عمومی معاشرتی اقدار میں بھی گراوٹ آ رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رمضان ٹرانسمیشنز کو صرف تجارتی منافع کے لیے استعمال کرنا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پروگرامز کے میزبان اور چینلز کی انتظامیہ اس امر سے غافل ہیں کہ رمضان میں نشر ہونے والا مواد معاشرے کے ہر طبقے کے لیے مثال کا درجہ رکھتا ہے۔ مذہبی شعور رکھنے والے افراد اور خاندان اس مواد کو دیکھ کر تشویش میں مبتلا ہیں، کیونکہ یہ مواد اسلامی اقدار کے منافی اور ناظرین کی اخلاقی تربیت پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ پہلے رمضان ٹرانسمیشنز میں تعلیمی اور مذہبی پہلوؤں کو ترجیح دی جاتی تھی، جیسے قرآن کی تلاوت، نیک کاموں کی ترغیب، افطاری کے دوران اخلاقی پیغامات، اور غربت و فلاحی سرگرمیوں کی تشہیر۔ لیکن موجودہ دور میں پروگرامز نے اپنی اصل روح کھو دی ہے اور صرف تجارتی اور تفریحی پہلوؤں پر توجہ مرکوز کر لی ہے۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ رمضان ٹرانسمیشنز کی یہ صورتحال نہ صرف مقدس مہینے کی تقدس کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ عوام میں مذہبی شعور کی کمی اور غلط اثرات پیدا کر رہی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ٹی وی چینلز اور پروگرامز کے منتظمین رمضان کے پروگرامز کے مواد کو دوبارہ جائزہ لیں اور اس میں اسلامی تعلیمات، اخلاقی اصول، اور معاشرتی ذمہ داری کو مدِ نظر رکھیں۔

اس حوالے سے تجویز کی جاتی ہے کہ رمضان ٹرانسمیشنز میں زیادہ سے زیادہ قرآنی تعلیمات، افطار کی سادگی، نیک اعمال کی ترغیب، اور سماجی خدمات کے موضوعات شامل کیے جائیں۔ تجارتی مواد کو محدود کیا جائے اور شادی شدہ جوڑوں یا ذاتی زندگی کے حساس موضوعات سے گریز کیا جائے۔ اس طرح نہ صرف رمضان کے مقدس مہینے کی اصل روح بحال ہوگی بلکہ ناظرین بھی تعلیم، اخلاق اور روحانیت سے مستفید ہو سکیں گے۔

لہٰذا یہ وقت ہے کہ میڈیا اور عوامی ادارے مل کر رمضان ٹرانسمیشنز کے معیار کو بہتر بنانے اور اسلامی اقدار کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں۔

مزید خبریں