بدھ,  25 فروری 2026ء
برطانیہ میں مردہ خاتون کے رحم کی پیوندکاری سےبچے کی پیدائش

لندن(روشن پاکستان نیوز) برطانیہ میں پہلی بار ایک بچے کی پیدائش ایسے عطیہ کردہ رحم کے ذریعے ہوئی ہے جو ایک وفات پا جانے والی خاتون سے حاصل کیا گیا تھا۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو طب کی تاریخ میں اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اُن خواتین کے لیے نئی امید پیدا ہوئی ہے جو پیدائشی طور پر رحم سے محروم ہوتی ہیں۔

تیس سال کی دہائی میں شامل گریس بیل پیدائشی عارضے ایم آر کے ایچ سنڈروم کا شکار تھیں۔ اس کیفیت میں رحم موجود نہیں ہوتا، تاہم بیضہ دانیاں معمول کے مطابق کام کرتی ہیں۔ برطانیہ میں یہ مسئلہ تقریباً ہر پانچ ہزار میں سے ایک خاتون کو متاثر کرتا ہے۔ گریس کو سولہ برس کی عمر میں آگاہ کر دیا گیا تھا کہ وہ قدرتی طور پر بچے کو جنم نہیں دے سکیں گی۔

نادرا: تاریخ پیدائش کی تبدیلی یا تصحیح کروانے والوں کیلیے اہم خبر

جون 2024 میں آکسفورڈ کے چرچل اسپتال میں ان کا دس گھنٹے طویل آپریشن کیا گیا، جس کے دوران ایک متوفیہ عطیہ دہندہ کا رحم کامیابی سے منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں لندن کے ایک زرخیزی مرکز میں بارآوری کے مراحل مکمل کیے گئے اور جنین کی منتقلی عمل میں آئی۔

گریس بیل کے ہاں بیٹے کی پیدائش لندن کے کوئین شارلٹ اینڈ چیلسیا اسپتال میں ہوئی۔ نومولود کی آمد کو والدہ نے معجزہ قرار دیتے ہوئے عطیہ دہندہ اور اس کے اہلِ خانہ سے دلی تشکر کا اظہار کیا۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عطیہ کردہ رحم کے ذریعے پیدا ہونے والے بچے کا عطیہ دہندہ سے کوئی جینیاتی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ کامیابی برطانیہ میں جاری طبی تحقیق کا حصہ ہے، جبکہ دنیا بھر میں اب تک سو سے زائد رحم کی پیوندکاریاں ہو چکی ہیں، جن کے نتیجے میں ستر سے زیادہ صحت مند بچوں کی پیدائش ممکن بنائی جا چکی ہے۔

مزید خبریں