اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)پاکستان میں نئی نسل کو نشے جیسی لعنت سے بچانے کے لئے 11 سال بعد نیشنل ڈرگ سروے کرانے کا فیصلہ کیا گیا وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی نے ڈرگ سروے کی باقاعدہ منظوری دے دی ۔
انسداد منشیات کے حوالے سے بین القوامی اداروں سے معاونت لی جائے گی۔ وزیر داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ گھروں کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں ، کچی آبادیوں اور دیگر مقامات سے بھی ڈیٹا جمع کرکے مستند اور جامع سروے کیا جائے ۔ سروے مکمل ہونے پر انسداد منشیات کے ضمن میں بھرپور اور مفصل فیصلہ سازی ہوگی ۔محسن نقوی نے کہا ہے کہ انسداد منشیات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا کیونکہ یہ قوم کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ محسن نقوی نے 15روز میں نیشنل ڈرگ سروے مکمل کرکے اسے حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر داخلہ کی زیر صدارت “کمیٹی برائے نیشنل ڈرگ سروے” کا اجلاس وزارت داخلہ میں منعقد ہوا۔ “نیشنل ڈرگ سروے” کے تحت ملک بھر میں منشیات استعمال کرنے والے افراد کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ و انسدادِ منشیات محسن نقوی نے ہدایت کی کہ نیشنل ڈرگ سروے کو ہر صورت جامع اور مستند ہونا چاہیئے۔ سروے کے درست ڈیٹا کی اصل اہمیت ہے اور اسی کا فائدہ ہو گا۔ وزیر داخلہ و انسداد منشیات نے ہدایت کی کہ سروے میں گھروں کے علاوہ تعلیمی اداروں ، کچی آبادیوں اور دیگر جگہوں سے بھی ڈیٹا جمع کیا جائے۔ وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی نے کہا کہ مستند اور جامع سروے سے ہی انسداد منشیات کے ضمن میں بھرپور اور مفصل فیصلہ سازی ممکن ہو گی۔ انسداد منشیات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا کیونکہ یہ قوم کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اے این ایف اور پاکستان بیورو آف سٹیٹکس مل کر سروے کے انعقاد کے لیے طریقہ کار، مطلوبہ ڈیٹا کی نوعیت، نمونہ کی شکل، اور ٹائم لائن کو وضع کریں۔ سروے کے انعقاد میں تعاون کیلئے بین الاقوامی ترقیاتی اداروں سے بھی رابطہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ آخری نیشنل ڈرگ سروے 2013 میں ہوا تھا۔اجلاس میں وفاقی سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری پلاننگ، ایڈیشنل سیکرٹری فنانس، سپیشل سیکرٹری ہیلتھ، ڈی جی اے این ایف اور چیف سٹیٹیشن نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں: دولہے کو شادی میں دلہن کے سامنے نشہ کرنا مہنگا پڑ گیا











