رسول نگر میں گندم کی فصل پک کر تیار،چند ہفتوں میں کٹائی شروع ہوجائیگی

شہر رسول نگر(نمائندہ خصوصی)ڈسٹرکٹ وزیرآباد میں کسانوں کی محنت رنگ لے آئی گندم کی فصل تیاری کے آخری مراحل سے گزر رہی ہے جو چند ہی ہفتوں کے بعد کٹائی کے لئے مکمل تیار ہو جائے گی اس وقت حقیقی معنوں میں کسانوں کے کھیت گندم کی صورت میں سونا اگلنے لگے محنت کش کسان اپنی فصل کو تیار دیکھ کر خوشی سے لہرااٹھے ۔

واضع ہو کہ ڈسٹرکٹ وزیرآباد شہر رسول نگر علی پورچٹھہ ساروکی چیمہ کی زرخیز زمین گندم کے حوالے سے اپنی مثال آپ کی حیثیت رکھتی ہے اور اس علاقے کے کسانوں کا زیادہ انحصارگندم کی فصل پر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں گندم کی فصل زیادہ کاشت کی جاتی ہے پرانے دورمیں کسان گندم کی فصل کو درانتی سے کاٹ کر اس کی بھریاں (گٹھوں)باندھتے تھے اور بھریاں (گٹھوں) تقریبا 50 فٹ چوڑائی اور50فٹ لمبائی والی کھلی جگہ پر ڈھیرلگاکر دوبیلوں پہ پنجالی ڈال کر اس کے پیچھے درختوں کے تنوں سے تیار کردہ پھلہ باندھ کر بیلوں کو گندم کے ڈھیر کے اوپرگول چکر پر چلاتے تھے نیزپھلہ کے اوپر کچھ وزن بھی رکھتے تھے

تاکہ گندم کے اوپر وزن محسوس ہو کسان بیلوں کو تتاتتاکی آوزایں لگا کر بیلوں کوگندم کے ڈھیرپر چلاتا تھا اس طرح گندم کی دانے الگ اور توری الگ ہو جاتی تھی پھر کسان توڑی سے دانوں کو صاف کر کے کو دانے الگ کر لیتا تھا اور توڑی الگ کر لیتا تھا اس طرح پرانے طریقے رواج سے گندم کی دانے اورتوڑی بنتی تھی اس کے بعد زمانے نے ترقی کی اورگندم کی کٹائی کے لئے جدید کٹرمشینیں آگئیں اور گندم کے دانوں اور توڑی کے لئے تھریشرمشین آگئی جسے ٹریکٹرکی مدد سے چلایا جاتاتھا کسان تھریشرکے پاس گندم کی بھریوں کو اکٹھا کر لیتا تھا پھر تھریشر میں گندم کی بھریوں کو کھول کر ڈالتا جاتاتھا جس سے گندم کے دانے علیحدہ نکلتے اور توڑی تھریشر کے پیچھے سے نکلتی تھی کسان دانوں کو بوریوں میں ڈال کر علیحدہ رکھ لیتا اور توڑی کے ڈھیر کو مٹی سے لپائی کرکے جانوروں کی خوراک کے لئے سٹور کر لیا جاتا تھا اب تیز رفتار سائنس کی بدولت ہارویسٹر مشین سے گندم کٹائی کی جاتی ہے۔

جس سے بہت کم وقت میں گندم کی فصل سے دانوں کو علیحدہ کیا جاتاہے جبکہ کسان توڑی (بھوسہ) کے حصول کے لئے جدید مشین ٹریکٹر کے پیچھے ڈال کرگندم کے کھیتوں میں بچ جانے والے ناڑمیں گھماتے ہیں جس سے صرف توڑی(بھوسہ)تیار کیا جاتا ہے یوں کسان جدید دور میں ان جدید مشینوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔۔

مزید خبریں