دبئی(روشن پاکستان نیوز) فلائی دبئی کی دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز FZ1073 میں فرسٹ آفیسر کی جانب سے مبینہ حملے کے بعد طیارے کو ممکنہ بڑے حادثے سے بچانے میں زخمی کپتان اور ایک مسافر سمیت دیگر افراد نے اہم کردار ادا کیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق طیارے میں موجود اسرائیلی مسافر یانیو حیون نے بتایا کہ جب وہ کاک پٹ میں داخل ہوئے تو طیارہ تیزی سے نیچے جا رہا تھا۔ انہوں نے طیارے کے کنٹرول کے ہینڈلز پیچھے کھینچنا شروع کیے، جس سے طیارہ دوبارہ بلند ہونا شروع ہوگیا۔
یانیو حیون نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے گفتگو کے دوران بتایا کہ انہیں طیارہ اڑانے کا عملی تجربہ نہیں تھا، تاہم وہ ’ایئر کریش انویسٹی گیشن‘ نامی ٹی وی پروگرام دیکھتے رہے ہیں، جس میں فضائی حادثات اور ہنگامی حالات کی تفصیلات دکھائی جاتی ہیں۔
مسافر کے مطابق کاک پٹ میں پہنچنے کے بعد انہوں نے طیارے کو نیچے جانے سے روکنے کیلئے کنٹرولز پیچھے کھینچے۔ ان کے بقول اس اقدام کے بعد طیارہ کسی حد تک دوبارہ ہموار ہونے لگا۔
یانیو حیون نے حملہ آور فرسٹ آفیسر کو قابو کرنے میں بھی مدد کی۔ اسی دوران زخمی کپتان نے دوبارہ طیارے کا کنٹرول سنبھال لیا، جبکہ بعد میں دیگر دو پائلٹس بھی کاک پٹ میں پہنچ گئے اور طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک کے ایئرپورٹ پر اتارا گیا۔
کانگو میں فوجی طیارہ گر کر تباہ، فوجی عدالت کے سربراہ سمیت 14 افراد ہلاک
اس واقعے میں کپتان سمت مچھر بھی زخمی ہوئے تھے۔ انہوں نے بعد میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ طیارہ تیزی سے نیچے جا رہا ہے اور وہ مسافروں کو مرنے نہیں دے سکتے۔ ان کے مطابق وہ تقریباً 17 سال سے طیارے اڑا رہے ہیں اور اسی تجربے کی وجہ سے انہیں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ تھا۔
رپورٹس کے مطابق پرواز کے دوران طیارہ تقریباً 17 ہزار فٹ سے زیادہ نیچے آ گیا تھا، جس کے باعث مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ کاک پٹ میں حملے کے بعد مسافروں اور عملے نے مبینہ حملہ آور کو قابو کیا اور طیارے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے میں مدد کی۔
بعد ازاں پرواز کا رخ سعودی عرب کے شہر تبوک کی جانب موڑ دیا گیا، جہاں طیارے نے ہنگامی لینڈنگ کی۔ سعودی حکام کے مطابق طیارے میں 174 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے۔
’ایئر کریش انویسٹی گیشن‘ ایک معروف ٹی وی پروگرام ہے جس میں حقیقی فضائی حادثات، ہائی جیکنگ اور دیگر ہوابازی کے واقعات کو ماہرین، تحقیقات اور عینی شاہدین کی معلومات کی مدد سے ڈرامائی انداز میں دوبارہ پیش کیا جاتا ہے۔ امریکا میں یہی پروگرام ’ایئر ڈیزاسٹرز‘ کے نام سے نشر ہوتا ہے۔
یانیو حیون کا کہنا ہے کہ اگرچہ انہیں طیارہ اڑانے کی باقاعدہ تربیت حاصل نہیں تھی، تاہم ٹی وی پروگرام میں ہنگامی فضائی صورتحال سے متعلق دیکھی گئی معلومات نے اس نازک موقع پر انہیں طیارے کے کنٹرولز استعمال کرنے میں مدد دی۔
واقعے کے مکمل محرکات اور فرسٹ آفیسر کی جانب سے مبینہ حملے کی وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ حکام کی جانب سے حتمی نتائج سامنے آنے تک مختلف دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کا عمل بھی جاری ہے۔











