لندن(روشن پاکستان نیوز) برطانیہ میں ویسٹ یارکشائر پولیس نے عوامی مقامات، بالخصوص رات کے اوقات میں تفریحی سرگرمیوں کے دوران جنسی تشدد اور ہراسانی کی روک تھام کیلئے ’پروجیکٹ ویجیلنٹ‘ شروع کیا ہے، جس کا مقصد کسی جرم کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے مشتبہ اور شکاری رویوں کی نشاندہی کرکے انہیں روکنا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ منصوبہ کاروباری اداروں، مقامی شراکت داروں، لائسنس یافتہ مقامات، ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ فراہم کرنے والوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے چلایا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ خطرے کی بروقت نشاندہی اور معلومات کا تبادلہ کیا جا سکے۔ ستمبر 2026 میں لیڈز اور ہڈرزفیلڈ میں اس منصوبے کا آزمائشی مرحلہ شروع کیا گیا۔
پروجیکٹ کے تحت عام مقامات پر کام کرنے والے افراد، جن میں بار، نائٹ کلب، ٹیک اوے اور ٹیکسی سروسز سے وابستہ افراد شامل ہیں، کو مشتبہ رویوں پر نظر رکھنے اور خدشات کی بروقت اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پولیس نے ایسے رویوں کو ممکنہ خطرے کی علامات قرار دیا ہے جن میں کسی نشے میں دھت یا کمزور شخص پر غیر معمولی توجہ مرکوز کرنا، ناپسندیدہ جنسی گفتگو یا رویہ اختیار کرنا، انکار کے باوجود کسی شخص کا پیچھا یا اس سے رابطے کی کوشش جاری رکھنا، کسی انتہائی نشے میں مبتلا شخص کو تنہائی میں لے جانے کی کوشش کرنا اور کسی فرد کو مسلسل دیکھنا یا اسے نشانہ بنانا شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق تربیت یافتہ سادہ لباس اور وردی میں ملبوس اہلکار رات کے اوقات میں مصروف علاقوں میں گشت کرتے ہیں اور ایسے رویوں کی نشاندہی کرتے ہیں جو ممکنہ جنسی جرائم کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں۔ ضرورت کے مطابق پولیس کسی مشتبہ شخص سے بات چیت، شناخت کی جانچ، علاقے سے نکلنے کی ہدایت، کمیونٹی پروٹیکشن وارننگ، تلاشی یا گرفتاری سمیت مختلف اقدامات کرسکتی ہے۔
پروجیکٹ میں عوامی مقامات پر کام کرنے والے افراد کو تین مراحل پر توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے: پہچانیں، ردعمل دیں اور اطلاع دیں۔ کسی شخص کے رویے میں خطرے کی علامات نظر آئیں تو پہلے متاثرہ یا ممکنہ متاثرہ شخص کی خیریت معلوم کی جائے، اسے محفوظ بنایا جائے اور اس کی شناخت سے متعلق ضروری معلومات حاصل کی جائیں۔
اس کے علاوہ واقعے کی جگہ، وقت اور نوعیت کا ریکارڈ رکھنے، مشتبہ شخص کا حلیہ نوٹ کرنے اور دستیاب شواہد، مثلاً نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ یا مشتبہ مشروبات کو محفوظ رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
برطانیہ: 20 سالہ لڑکی سے مبینہ جنسی زیادتی، 40 سالہ شخص گرفتار
ویسٹ یارکشائر پولیس کے مطابق منصوبے کا مقصد صرف جرم کے بعد کارروائی کرنا نہیں بلکہ ایسے رویوں کو ابتدائی مرحلے میں روکنا، ممکنہ متاثرین کو محفوظ بنانا اور مستقبل میں حفاظتی اقدامات کیلئے معلومات اکٹھی کرنا بھی ہے۔ پولیس کے مطابق منصوبے سے حاصل ہونے والی معلومات مشتبہ رویوں کے نمونوں کی نشاندہی اور مستقبل کی حفاظتی کارروائیوں میں مدد دے سکتی ہیں۔
ویسٹ یارکشائر پولیس نے واضح کیا ہے کہ ہنگامی صورتحال، جاری جرم یا جان کو خطرے کی صورت میں 999 پر رابطہ کیا جائے، جبکہ غیر ہنگامی معاملات میں پولیس کی ویب سائٹ، 101 یا گشت کرنے والے پولیس اہلکاروں کو اطلاع دی جا سکتی ہے۔
پروجیکٹ ویجیلنٹ وسیع تر قومی حکمت عملی کا بھی حصہ ہے جس کے تحت خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد اور جنسی جرائم کی روک تھام کیلئے پولیس کی موجودگی، خفیہ نگرانی، شراکت داری اور ابتدائی مداخلت پر زور دیا جا رہا ہے۔ ویسٹ یارکشائر پولیس کے مطابق یہ منصوبہ انگولینی انکوائری کی سفارشات کے تناظر میں بھی اہم اقدام ہے اور کامیاب جائزے کے بعد مارچ 2027 تک اسے پورے ویسٹ یارکشائر میں وسعت دینے کی توقع ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ عوامی مقامات کو محفوظ بنانے کیلئے صرف پولیس کی کارروائی کافی نہیں بلکہ کاروباری اداروں، مقامی شراکت داروں اور عام شہریوں کی بروقت اطلاع اور تعاون بھی اہم ہے۔











