بدھ,  26  اگست 2026ء
بنگلا دیش کا مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور، بھارت کیلئے نئی تشویش

ڈھاکا(روشن پاکستان نیوز)  بنگلا دیش نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان رواں ماہ طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور شروع کر دیا۔ جس سے ڈھاکا کے علاقائی اور عالمی تعلقات بالخصوص بھارت کے ساتھ تعلقات مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق بنگلادیش کے جونیئر وزیر خارجہ ہمایوں کبیر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں اسلامی ممالک کے درمیان کوئی سیکیورٹی انتظام موجود ہے تو بنگلادیش کے لیے اس میں شمولیت پر غور کرنا غیر معمولی بات نہیں۔ اس تجویز کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بنگلادیش کی قیادت، خصوصاً وزیر اعظم طارق رحمان کو معاہدے میں شرکت کی دعوت دی جا رہی ہے۔ بنگلا دیشی وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے بھی تصدیق کی کہ سعودی عرب نے ڈھاکا کو معاہدے میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔

صرف بنگلہ دیش کیخلاف سیریز نہیں ٹیسٹ چیمپئن شپ کو دیکھ رہے ہیں، شاہین آفریدی

واضح رہے کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے رواں ماہ مکہ مکرمہ میں باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا بنیادی اصول نیٹو کے اجتماعی دفاع کے تصور سے مشابہ ہے۔ معاہدے کے تحت ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

ترکیہ نے پہلے ہی واضح کیا ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے۔

بھارت سے تعلقات پر اثرات

تجزیہ کاروں کے مطابق بنگلادیش کی جانب سے کسی فوجی اتحاد میں شمولیت اس کی طویل عرصے سے جاری متوازن خارجہ پالیسی کے لیے بڑا امتحان ہو گی۔ ڈھاکا اب تک مختلف عالمی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے سرمایہ کاری، برآمدات اور معاشی روابط کو فروغ دینے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

جیو پولیٹیکل تجزیہ کار کولول کبریا کے مطابق دفاعی اتحاد میں شمولیت سے بنگلا دیش کے بھارت کے علاوہ چین، ایران، جاپان، کویت، عمان، قطر، روس، متحدہ عرب امارات اور امریکا کے ساتھ تعلقات بھی پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔

بنگلا دیش اور بھارت کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ ڈھاکا بھارت پر سرحد کے ذریعے لوگوں کو زبردستی بنگلا دیش میں دھکیلنے کے الزامات عائد کرچکا ہے، جبکہ بنگلا دیش سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی بھارت سے حوالگی کا بھی مطالبہ کر رہا ہے۔

مزید خبریں