پیانگ یانگ(روشن پاکستان نیوز) شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ امریکا کی نئی جوہری حکمت عملی ہتھیاروں کی نئی دوڑ کو جنم دےگی۔
امریکی ویب سائٹ بلوم برگ کے مطابق شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نےامریکا کی زیر غور نئی جوہری حکمت عملی کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائدکیا ہےکہ امریکاطویل عرصے سے جوہری ہتھیاروں کو بالادستی اور جارحانہ سیاسی و فوجی مقاصد کے حصول کا بنیادی ذریعہ بنا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکا کا نیا جوہری نظریہ ایک سنگین اور خطرناک عنصر ہے،کیونکہ یہ دنیا میں جوہری توازن کو تباہ کرتا ہے، جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو تیز کرتا ہے اور عالمی سلامتی کے ماحول کو جوہری جنگ کی دہلیز تک پہنچا دیتا ہے۔
تاہم امریکی نائب وزیر دفاع ایلبرج کولبی نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں زیر غور جوہری حکمتِ عملی میں کسی بڑی یا بنیادی تبدیلی کی توقع نہیں ہے۔
ایک اور بیان میں شمالی کوریا نے امریکا اور جنوبی کوریا کی جانب سے موسم گرما میں ہونے والی مجوزہ فوجی مشقوں کی مذمت کرتے ہوئے اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے خدشات، ٹرمپ کےگالف کلب پر فضائی دفاعی نظام تعینات کردیا گیا
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا میں جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا دشمن ریاستوں کی جانب سے پیدا کی جانے والی سنگین محاذ آرائی کی صورتحال کو برداشت نہیں کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور جنوبی کوریا 17 اگست سے اپنی مشترکہ فوجی مشقیں شروع کرنے والے ہیں، جو 27 اگست تک جاری رہیں گی۔ ان مشقوں میں روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف جنگ میں شمالی کوریا کی شرکت سے حاصل کیے جانے والے ممکنہ نئے تجربات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
امریکی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے یہ بات ایسے وقت میں رپورٹ کی ہے جب شمالی کوریا نے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں اپنا دوسرا میزائل تجربہ کیا ہے۔
بدھ کے روز شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل سے سمندر کی جانب ایک بیلسٹک میزائل داغا تھا۔ اس سے6 روز قبل بھی اس نے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے ایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق کم جونگ اُن نے امریکا اور جنوبی کوریا کی جانب سے سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی پیشکشوں کو نظر انداز کیا ہے اور 2019 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہونے کے بعد اپنی جوہری صلاحیت مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہےکہ کم جونگ اُن بالآخر اپنی بڑھتی ہوئی جوہری صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے امریکا سے مزید رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں، جن میں وسیع پیمانے پر عائد پابندیوں میں نرمی بھی شامل ہے۔











