بدھ,  07 اکتوبر 2026ء
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں کروڑوں روپے کے مبینہ کرپشن اسکینڈل کا انکشاف، سارجنٹ ایٹ آرمز کے خلاف چارج شیٹ جاری

اسلام آباد(محب) قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں کروڑوں روپے کے مبینہ مالی فراڈ اور بدعنوانی کے الزامات سامنے آگئے ہیں۔ سارجنٹ ایٹ آرمز اشفاق اشرف کے خلاف چارج شیٹ جاری کردی گئی ہے، جس میں سرمایہ کاری کے نام پر رقم وصول کرنے، ورک ویزا دلوانے کے وعدے، سیکیورٹی اہلکاروں سے مبینہ بھتہ وصولی اور دیگر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

چارج شیٹ کے مطابق اشفاق اشرف پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک سابق فوجی افسر سے سرمایہ کاری کے نام پر 5 کروڑ روپے وصول کیے اور رقم واپس نہیں کی۔ ان پر اسپیکر قومی اسمبلی کے مشیر محمد مشتاق کا نام مبینہ طور پر استعمال کرکے کروڑوں روپے کے فراڈ کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

دستاویز کے مطابق اشفاق اشرف نے مبینہ طور پر ایک جعلی سرمایہ کاری اسکیم کے ذریعے ماہانہ 10 فیصد منافع دینے کا لالچ دے کر مختلف افراد سے کروڑوں روپے وصول کیے۔

چارج شیٹ میں قومی اسمبلی کے ایڈیشنل سارجنٹ ایٹ آرمز کو بھی مبینہ فراڈ کا شکار بنانے کا الزام شامل ہے۔ الزام کے مطابق ان کے بیٹے کو برطانیہ کا ورک ویزا دلوانے کے وعدے پر 28 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔

دستاویز میں پارلیمنٹ کے سیکیورٹی اہلکاروں سے متعلق بھی متعدد الزامات سامنے آئے ہیں۔ چارج شیٹ کے مطابق من پسند ڈیوٹی لگانے کے عوض بعض اہلکاروں سے ماہانہ 30 ہزار روپے مبینہ طور پر وصول کیے جاتے رہے۔ اس کے علاوہ غیر حاضر اہلکاروں کی حاضری لگانے اور سیکیورٹی اہلکاروں سے ماہانہ 30 ہزار روپے کے سگریٹ اور 2 لاکھ روپے پٹرول کی مد میں رقم وصول کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔

پی ٹی آئی کے عادل بازئی بھی گرفتار، پکڑے گئے ممبران اسمبلی کی تعداد 6 ہوگئی

ذرائع کے مطابق الزامات کی سنگینی کے پیش نظر اسپیکر قومی اسمبلی نے اشفاق اشرف کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری حسین رضا زیدی کو انکوائری افسر مقرر کرتے ہوئے سات روز کے اندر تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تاہم چارج شیٹ میں عائد الزامات کی حتمی حیثیت انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی، جبکہ متعلقہ افسر کو تحقیقات کے دوران اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع حاصل ہوگا۔

مزید خبریں