اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹوئٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستیں قابل سماعت قرار دیدیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے محفوظ فیصلہ جاری کرتے ہوئے پراسیکیوشن کی قابل سماعت ہونے کے اعتراضات سے متعلق متفرق درخواست مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ سے سزا یافتہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستیں قابل سماعت قرار دیں۔
یاد رہے کہ پراسیکیوشن کی متفرق درخواست پر عدالت نے گزشتہ روز فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
صحافیوں کو پیکا ایکٹ سے تحفظ دینے کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ
پراسیکوشن نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواستیں قبل از وقت دائر ہونے کا اعتراض اٹھایا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے متنازع ٹوئٹ کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17,17 سال قید کی سزا سنائی تھی، ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں دونوں کو سزا سنائی تھی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے سزا معطلی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔











