اتوار,  13  ستمبر 2026ء
یہاں کون ہے تیرا، مسافر،جائے گا کہاں؟

سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

یہاں کون ہے تیرا، مسافر،جائے گا کہاں؟

لڑکوں کی پیدائش پر منظر نامہ

اے مردو مجھے تم پر رحم آتا ہے۔ اگر تم مرد پیدا ہوئے ہو تو سمجھ لو کہ تم پھنس گئے ہو اس مایہ جال میں۔
مجھے تم پر دیا آتی ہے کیونکہ تم ایک بہت کٹھن، مشکل اور تکلیف دہ زندگی گزارنے جا رہے ہو،
تم اپنے خاندان کے بے شمار لوگوں کا سہارا بنو گے،ان کے لیے محنت کرو گے ،کماؤ گے ان پر سرمایہ لگاؤ گے۔
لیکن تمہارے اپنے لیے کیا؟
تمہارے ہوش سنبھالتے ہی تمہیں احساس دلا دیا جائے گا کہ تم نے ساری آمدنی اپنی ماں کے ہاتھ میں رکھنی ہے،
اپنی بہنوں کی تعلیم اور شادی کے اخراجات برداشت کرنے ہیں اور اس کے بعد ہی تم خود رشتہ ازدواج سے منسلک ہو سکو گے۔ گھریلو اور خاندانی نظام کو چلانے کے لیے چاہے تمہیں اپنی آرام،سکون اور صحت کی قربانی دینا پڑے یا اپنی خوشیوں پر پابندی عائد کرنا پڑے تم ہر وہ کام کرو گے جس کی تم سے یہ دنیا توقع کرتی ہے،
لیکن تمہارے اپنے لیے کیا؟
اور اگر تمہاری جوانی میں جنسی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے وقت پر تمہاری شادی ہو جائے تو پھر تم مسلسل کولہو کے بیل کی طرح گھومتے رہو گے،
کام، پیسہ، گھر ،
کام، پیسہ،گھر
لیکن پھر تمہارے لیے کیا ؟

ایک دن تم آئینے میں دیکھ کر چونک جاؤ گے کہ تم عمر کے اس حصے میں ہو جہاں کسی کے لیے تمہاری ذات میں کوئی کشش نہیں ہوگی،
اس عمر میں نہ تمہارے دوست بن سکیں گے،
نہ کوئی صنف مخالف تم پر فریفتہ ہوگی
اور نہ ہی تم کسی لڑکی کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا پاؤ گے،
اپنی محنت کی کمائی پہلے ماں ،بہن اور خاندانی ضروریات پر لگاتے رہے اس کے بعد بیوی بچوں کی فکر دامن گیر رہی۔
لیکن تمہارے لیے کیا ؟
صرف ہائی بلڈ پریشر ،شوگر کی بیماری اور ٹیبل کے ایک کونے پر رکھیں تمہاری صحت یابی کے لیے چند دوائیں، بس یہی تمہاری ساتھی ہیں، تمہارا سرمایہ اور یہی تمہاری کمائی ہے ؟
مرد کے ساتھ ایک ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ وہ تمام عمر عورتوں کے گھیرے سے نکل نہیں پاتا ،جب ہوش سنبھالتا ہے تو ماں کی گود پاتا ہے، لڑکپن میں اپنی بہنوں کی ذمہ داری محسوس کرنے لگتا ہے،
جوان ہوا تو بیوی کے ہتھے چڑھ جاتا ہے اور بیوی جو سلوک کرتی ہے اپنے شوہر کے ساتھ وہ شادی شدہ مرد ہی جانتے ہیں۔
تو حقیقت یہ ہے کہ مرد پیدائش سے لے کر موت تک عورتوں میں گھرا رہتا ہے،
ماں، بہن ،بیوی، کبھی بیٹی کے روپ میں عورت اس کے سامنے رہتی ہے اور اگر کوئی شخص شادی نہیں کرتا تب بھی وہ عورت کا ہی محتاج ہوتا ہے۔ اسے عورت کی جسمانی قربت کی ضرورت ہوتی ہے تو پیسے خرچ کر کے حاصل کرتا ہے اور پھر اسے ہے راہ روی کی زندگی گزارنا پڑتی ہے۔
تو پھر یہ طے ہوا کہ عورت کے بغیر بھی زندگی نہیں گزاری جا سکتی لیکن ایک بات کا ہمیشہ خیال رکھنا کہ عورت وہی ہے جس نے آدم کو جنت سے نکلوا دیا تھا لہذا اس ذات سے کبھی کوئی اچھائی کی امید نہ رکھنا میرے دوست۔
میں جانتا ہوں کہ تم زندگی میں بہت سارے بحرانوں کا سامنا کرنے جا رہے ہو، ممکن ہے تمہیں زندگی میں صحت کے مسائل درپیش ہوں، تعلیمی قابلیت میں کمی رہ جائے یا مالی بوجھ کا شکار رہو ان سب سے تم بچ کر نکلنے میں کامیاب ہو سکتے ہو لیکن جس طوفان کا سامنا عمر بھر کرنا پڑے گا اور جس سے بچ نکلنے کا بھی مرتے دم تک کوئی امکان نہ ہو گا وہ طوفان تمہاری بیوی کی شکل میں تمہاری زندگی میں آئے گا۔

اب میں نے تم مردوں سے جتنے خوف اور خدشات کا اظہار کیا ہے تو تم لوگ بجا طور پر پریشان ہونے کے حقدار ہو ۔ کیونکہ ان سے بچنے کا تمہارے پاس کوئی طریقہ، کوئی علاج نہیں ہے ۔تم بھاگ کر کہاں جا سکتے ہو؟
یہاں کون ہے تیرا، مسافر، جائے گا کہاں؟
اگر میرا مشورہ مانو تو ان تمام عذابوں سے بچنے کا ایک حل ہے میرے پاس اور وہ یہ ہے کہ طبی سائنس بہت ترقی کر چکی ہے،
ماں کے پیٹ میں چھ ماہ کے بچے کے دل کا آپریشن کامیاب ہو چکا ہے ،
انسان کے سینے میں سور کا دل لگا کر مریض کو زندگی دے دی گئی ہے،
ڈاکٹرز یہاں تک کامیابی حاصل کر چکے ہیں کہ ماں کے پیٹ میں بچے کی جنس تبدیل کی جا سکتی ہے
اور اب تو اے مردو ،تم چاہو تو آپریشن کروا کر اور میڈیکل ٹریٹمنٹ لے کر اپنی جنس تبدیل کروا سکتے ہو،
تو میرا مشورہ یہی ہے کہ مستقبل کے بحرانوں اور طوفانوں سے بچنا چاہتے ہو تو فوری طور پر طبی ماہرین سے رابطہ کرو
اور اپنی جنس تبدیل کروا کر مرد سے عورت بن جاؤ۔ اور پھر راج کرو دنیا پر

مزید خبریں