اتوار,  12 جولائی 2026ء
عنوان ہے، زندگی کا خوف
عنوان ہے، زندگی کا خوف

تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

عنوان ہے،
زندگی کا خوف

جب میں اپنے آس پاس، آگے پیچھے دیکھتا ہوں تو مجھے وہ خوف، جو ہمارے والدین یا سماج نے، جانے انجانے میں ہمارے ذہنوں میں منتقل کیے ہیں، ایک جال کی طرح نظر آتے ہیں
اور اس میں ہم انسان ،مختلف جالوں میں پھنسے اور لٹکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
میں دیکھتا ہوں کہ ہم لوگ اپنے خوف کے غلام ہیں اور پھر اپنے تکبر کے بھی۔
تکبر کی غلامی کی بات تو میں بعد میں کروں گا پہلے کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ بچے جب چھوٹے ہوتے ہیں تو کتنا بے خوف ہوتے ہیں۔
اونچائی پر چڑھ جاتے ہیں، آگ کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اجنبیوں سے باتیں کرتے ہیں لیکن جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے ہیں، ان کو سماج اور گھر والے یہ خوف دلاتے ہیں کہ سب کچھ ویسا نہیں ہے جیسا کہ تمہیں نظر آتا ہے۔
کہ دنیا بہت بری ہے،
کوئی کسی کا نہیں،
کوئی کسی سے سچی محبت نہیں کرتا،
کوئی کسی کو نہیں چاہتا،
تمہاری کوئی مدد کو نہ آئے گا ۔

اب یہ اتنے زہریلے جملے ہیں کہ جو بچے کے ذہنوں میں گھر کر لیتے ہیں
اور اس کے علاوہ کبھی ماں کہتی ہے کہ مت دوڑو گر جاؤ گے،
اور پھر باپ مخاطب ہوتا ہے کہ زیادہ مت بولا کرو تم غلط بولتے ہو،
اور پھر کہیں وہ استاد سے سنتا ہے کہ جب تو پڑھائی میں پیچھے رہ جائے گا تو زندگی برباد ہو جائے گی۔
پھر ساتھ ہی اس کو مذہب اپنے شکنجے میں جکڑ لیتے ہیں۔
دنیا کا ہر دھرم، اسے خوشی کے مواقع سے فرار سکھاتا ہے ،
زندگی کی لذتوں سے روکتا ہے۔
کم کھاؤ،
کام ہنسو ،
عورتوں کے ساتھ رغبت نہ کرو،
شراب مت پیو ۔
اب یہ سب چیزیں جو انسان کو خوشیاں مہیا کرتی ہیں اور سب سے بڑی ہے صنف مخالف کی کشش،
جس کے بارے میں ابن خلدون نے کہا تھا کہ
عورت کے ساتھ سیکس کرنا،
جنت کے لذتوں میں سے ایک ہے۔ لیکن تمام مذاہب آپ کو عورت اور شراب سے دور رہنے کا درس دیتے ہیں
لیکن اچھے اعمال کے صلے میں مرنے کے بعد آپ کو عورت اور شراب کی ہی لالچ دی جاتی ہے کہ یہ دونوں نعمتیں جنت میں آپ کو وافر مقدار میں دستیاب ہوں گی۔

جب سماج، مذاہب !خاندان آپ کے ذہنوں میں مختلف قسم کا خوف ڈالتے ہیں تو بچہ اس خوف کا غلام بن جاتا ہے جو اس کا معاشرہ، بچپن سے اس کے دل و دماغ میں ڈالتا رہتا ہے۔
اس طرح بچہ جوان ہو کر زندگی میں درست فیصلے نہیں کر پاتا۔
دوسرے کی رائے کا محتاج ہوتا ہے۔
اسے ہر چیز سے ڈر لگتا ہے ،ناکامی سے،
لوگوں کی نظر لگنے سے ڈر لگتا ہے ۔
مستقبل سے ڈرتا ہے،
حتی کہ موت سے،
حالانکہ کہا جاتا ہے کہ

موت کو سمجھے ہے غافل اختتام زندگی
ہے یہ شام زندگی
صبح دوام زندگی۔

یہ خوف اور بہادری بھی ایک طرح کی متعدی بیماری ہے۔ جس طرح مختلف قسم کی بیماریاں نزلہ، زکام! انفلوئنزا ،ایک انسان سے دوسرے انسان کو منتقل ہوتی ہیں،
اسی طرح دلیری اور بزدلی بھی ایک متعدی بیماری ہے،
ایک انسان سے دوسرے انسان کو لگتی ہے۔
اگر آپ لوگ بزدل لوگوں کی محفل میں بیٹھو گے تو بزدل ہو جاؤ گے
اور اگر دلیر لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہوگا تو دلیری سے زندگی گزارو گے اور کسی چیز کا خوف نہ ہوگا ۔
بس یہی ایک دو باتیں عرض کرنی تھیں۔
اب کوشش کریں کہ آپ اپنے بچوں کو ان بیہودہ تصورات کی بھینٹ نہ چڑھنے دیں

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

مزید خبریں