قلم قرطاس اور تلوار
تحریر: شیخ اعجاز افضل
اینڈی برنہم نے میکر فیلڈ کے اہم ضمنی انتخاب میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے، جس کے بعد کیئر اسٹارمر کی وزارتِ عظمیٰ کو چیلنج کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
گریٹر مانچسٹر کے میئر نے ریفارم یو کے کے امیدوار رابرٹ کینیون کو 9,231 ووٹوں کے فرق سے شکست دی، جبکہ نئی جماعت “ری اسٹور برطانیہ” تیسرے نمبر پر بہت پیچھے رہی۔

لیبر پارٹی نے 54 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ریفارم یو کے کو 35 فیصد ووٹ ملے۔ ری اسٹور برطانیہ نے 7 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 58.75 فیصد رہا، جو عام انتخابات کے مقابلے میں 6 فیصد زیادہ تھا، اور مجموعی طور پر 45,510 ووٹ ڈالے گئے۔
جیتنے کے بعد اپنی تقریر میں برنہم نے کہا کہ یہ نتیجہ “ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے” اور لوگوں نے “تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے، انہوں نے شمالی انگلینڈ اور ویسٹ منسٹر کی جانب سے نظرانداز کیے گئے تمام علاقوں کو زیادہ اختیارات دینے کے لیے ووٹ دیا ہے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ لیبر پارٹی کا تبدیلی لانے کا آخری موقع ہے، اور مزید کہا:
دوسرا موقع نہیں ملے گا، لیکن آج رات کے اس نتیجے کے بعد ہمارے پاس ایک نئی سیاست کی بنیاد رکھنے کا موقع ہے جو اتحاد اور امید پر مبنی ہو، اور ہمیں اس راستے سے ہٹنا ہوگا جو ہمیں امریکہ کی طرح تقسیم شدہ سیاست کی طرف لے جاتا ہے۔
اب ہمیں اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے ملک کو درست سمت میں واپس لانا ہوگا، لوگوں کو دوبارہ ایک ساتھ جوڑنا ہوگا اور نظام کو بہتر طریقے سے چلانا ہوگا۔”
جدید برطانوی تاریخ کے سب سے اہم ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد، وسیع پیمانے پر توقع کی جا رہی ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں لیبر پارٹی میں باقاعدہ قیادت کا مقابلہ شروع ہوتا ہے تو
اینڈی برنہم نمبر 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے لیے اپنے آپ کو بطور مضبوط امیدوار ثابت کریں گے ۔
یہ حقیقت کہ برنہم نے ریفارم اور ری اسٹور دونوں جماعتوں کے مجموعی ووٹوں سے بھی 6,100 زیادہ ووٹ حاصل کیے، لیبر کے اراکینِ پارلیمان اور کارکنوں کے درمیان وزارتِ عظمیٰ کے لیے ان کی اہلیت کو مزید مضبوط کرے گی۔ King of West
“شمال کا بادشاہ” کہلانے والے برنہم، جو تقریباً 25 سال قبل پہلی مرتبہ پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے اور ٹونی بلیئر اور گورڈن براؤن کی حکومتوں میں خدمات انجام دے چکے ہیں، نو سال بعد دوبارہ ویسٹ منسٹر واپس آئیں گے۔ حلقہ وگن کے لائف کنونشن سینٹر میں میڈیا نمائندوں اور حامیوں کے ایک بڑے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے، جنہوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، برنہم نے کہا:
“میکر فیلڈ میرے لیے کبھی محض ایک سیڑھی نہیں ہوگا، بلکہ یہ میری رہنمائی کا معیار ہوگا۔ برطانوی سیاست کے مرکز میں میکر فیلڈ کا امتحان اس بات کو یقینی بنائے گا کہ وہ علاقے جنہیں ویسٹ منسٹر نے نظرانداز کیا ہے، اب انصاف حاصل کریں گے۔”
انہوں نے کہا کہ ووٹروں نے انہیں بتایا کہ وہ خود کو Neglected “نظرانداز شدہ” محسوس کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ “ملک دوسروں اور دوسرے علاقوں کے لیے تو کام کرتا ہے، لیکن یہاں کے لیے نہیں”۔
اینڈی برنہم نے مزید کہا کہ
آج رات سب بدل گیا ہے۔ یہ نتیجہ اس صورتحال کو بدل دے گا۔ یہ نتیجہ ایک ایسے ملک کی بنیاد رکھے گا جو ہر شخص کے لیے منصفانہ طور پر کام کرے گا۔ یہاں کے لوگوں نے تبدیلی کے لیے ووٹ دیا ہے، انہوں نے شمالی انگلینڈ اور ویسٹ منسٹر کی جانب سے بھلا دیے گئے تمام علاقوں کے لیے زیادہ اختیارات کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اب آئیے یہ اختیار انہیں واپس دیں۔”
ان کی کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ لیبر پارٹی کو اب ریفارم یو کے کے خلاف ایک اور سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا، اس بار گریٹر مانچسٹر کی میئرشپ برقرار رکھنے کے لیے۔ تقریباً 20 لاکھ ووٹروں پر مشتمل یہ ضمنی انتخاب برطانوی سیاسی تاریخ کے سب سے بڑے انتخابات میں سے ایک ہوگا، اور توقع ہے کہ یہ 30 جولائی کو منعقد ہوگا۔ میری معلومات کے مطابق ہو سکتا ہے کہ مانچسٹر سٹی کونسل میں لیڈر آف دی ہاؤس Bev Craig مانچسٹر کے مئیر کے لیے اپنا نام پیش کریں گی ۔











