حادثے کی منتظر قوم
حادثے کی منتظر قوم

کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعہ کے حوالہ سے دفتر میں بات ہو رہی تھی۔۔ میرا کہنا یہ تھا کہ کسی بھی مہذب ملک میں ایسی کوئی بھی کمرشل عمارت بناتے ہوئے سب سے پہلے ہنگامی اخراج ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ آگ لگنے یا زلزلہ کی صورت میں اس راستے سے با آسانی نکلا جا سکتا ہے۔
میں کچھ عرصے لندن میں رہا، وہاں کہیں بھی جب ملازمت کے لیے جاتے تو دفتر کا دورہ کروایا جاتا اور سب سے پہلے فائر ایگزٹ دکھایا جاتا اور فائر اسمبلی پوائنٹ بھی۔۔ یہ بتایا جاتا کہ آگ لگنے کی صورت میں یہاں سے نکلنا ہے اور فائر اسمبلی پوائنٹ پر جمع ہونا ہے۔

یہاں ہم کئی دفاتر میں خود بھی کام کر چکے ہیں جہاں بیسمنٹ میں دفتر ہوتا ہے مگر داخل ہونے اور نکلنے کا ایک ہی راستہ ہوتا تھا اس پر ہم جب بات کرتے تو یہی کہتے کہ خدانخواستہ اگر آتشزدگی ہوتی ہے تو کیسے باہر نکلیں گے، ہم تو یہیں پھنس کے رہ جائیں گے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی تو بنا دی مگر اسے کنٹرول کرنے کے لیے کوئی ادارہ نہیں۔۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کسی سے بھی پیسے وصول کر کے انہیں قواعد کے خلاف عمارت تعمیر کرنے کی اجازت دے دیں تو انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔۔ یہ صرف بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا حال نہیں میونسپل کارپوریشن، واٹر اینڈ سینیٹائزیشن کے اداروں سمیت تمام اداروں میں یہی حال ہے۔۔ حال ہی میں سائبر کرائم روکنے کے لیے بنائے گئے ادارے این سی سی آئی اے کے حالات جو سامنے آئے تو رونا آ گیا کہ کس ملک میں رہتے ہیں جہاں فوڈ کنٹرول کا ادارہ روزانہ کئی ہزار گیلن کیمیکل سے بنا مضر صحت دودھ تلف کرتی ہے مگر یہ سلسلہ بند نہیں ہو پا رہا، بھینسیں اور گائے بھی وہی ہیں اس ملک میں جو ہمارے بچپن میں تھیں لیکن ہم خالص دودھ پیتے تھے اب خالص تو کیا یہ بھی معلوم نہیں ہو پاتا کہ یہ دودھ بھی ہے یا نہیں؟۔

ان سب معاملات کو بہتر بنا سکتا ہے ہمارا عدالتی نظام لیکن افسوس کہ اس میں بھی ملاوٹ دکھائی دیتی ہے۔ عدالتوں کو با اختیار ضرور ہونا چاہیے مگر اتنا نہیں کہ وہ ایسے فیصلے کریں جو ان کے دائرہ اختیار میں بھی نہیں ہوتے۔۔ یہاں جج کا دل کرے تو وفاقی دارالحکومت کا چڑیا گھر بند کروا دے، سرکاری چڑیا گھر کے تمام جانور ایوب پارک بھجوا دیئے جاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہاں بد انتظامی ہے حالانکہ سی ڈی اے کو کہا جا سکتا تھا کہ اسلام آباد کے دامن کوہ کے قدموں میں قائم اس چڑیا گھر میں انتظامات کو بہتر بنایا جائے ورنہ بدانتظامی کس ادارے میں نہیں ہے؟۔ کیا عدالتوں میں تمام معاملات درست ہیں؟۔ ایسے فیصلوں سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ کسی ادارے کو بہتر بنانے کے اقدامات کے بجائے اسے بند کر دیا جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔

یہاں کیس کچھ اور تھا مگر چونکہ وزیر اعظم کے مشیر ہوابازی شجاعت عظیم سے عداوت تھی تو ان کی تقرری پہ سوال اٹھاتے ہوئے اصل کیس کے بجائے شجاعت عظیم کو ہٹانے کا فیصلہ کر دیا گیا حالانکہ ان کے دور میں تمام ائیرپورٹس کو بہتر بنانے کا کام ہوا۔ یہاں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے قیام پر اعتراض اٹھایا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اراضی بہت سستی دی گئی مگر اس کے سامنے ہی موجود فائیو سٹار ہوٹل کے عقب میں بزنس سینٹر کے لیے اراضی کئی گنا کم قیمت پر دی گئی اس پر کوئی بات نہیں کرتا۔

کراچی میں ہی نسلہ ٹاور کیس کی اگر مثال لیجیے۔۔ ایک چیف جسٹس کا تعلق کراچی سے تھا تو انہیں دکھ ہوتا تھا کہ نسلہ ٹاور نہیں بنا تھا تو اردگرد موجود مکانات تک سورج کی کرنیں جاتی تھیں۔۔ انہوں نے چند مرلے ریگولرائز نہ ہونے پر پورا نسلہ ٹاور گرانے کے احکامات جاری کر دئیے۔۔ کس نے زمین خریدی، کس نے این او سی لیا، کس نے تعمیرات کیں اور کس نے اپارٹمنٹس فروخت کیے۔۔ ان سب سے قطع نظر دیکھنے والی بات یہ تھی کہ کیا خریدنے والوں نے کسی قبضے کی جگہ پر ناجائز طریقے سے مکان بنایا ہے یا تمام کاغذات کی تسلی کرنے کے بعد یہ عمارت خریدی تھی؟

یہ بھی دیکھا جانا چاہیے تھا کہ اگر سب نے اصل کاغذات، این او سی، نقشے کی منظوری کے تمام کاغذات دیکھ کر یہ اپارٹمنٹس خریدے تھے تو پھر انہیں جو نقصان ہو گا اس کا ازالہ کون کرے گا؟ کچھ نہیں دیکھا گیا بس ایک نسلہ ٹاور کو گروا کر اس وقت کے چیف جسٹس گلزار نے اپنے بچپن کی طرح کا نظارہ کرنے کے بعد ذہنی سکون حاصل کیا مگر جنہوں نے ساری زندگی کی جمع پونجی سے اپنے بچوں کے لیے چھت کا انتظام کیا تھا ان کا کیا قصور تھا؟
پھر کیا ہوا کہ نسلہ ٹاور کرپشن کیس میں گرفتار تمام ملزمان بری ہو گئے اور یہ معلوم ہوا کہ باقی تمام اراضی قانونی تھی مگر پانچ سے ساتھ مرلہ جگہ غیر قانونی تھی۔۔ اس سات یا پانچ مرلہ کے لیے چار درجن سے زائد خاندانوں کو بے گھر کرنے کے بعد جسٹس گلزار کو قرار آ گیا۔۔ لیکن کیا کراچی میں صرف نسلہ ٹاور کی عمارت غیر قانونی تھی؟۔ کیا جسٹس گلزار کو باقی کراچی سے کوئی غرض نہیں تھی؟۔ کیا دیگر تمام عمارتیں قانونی ہو گئی تھیں؟۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ جو زمین کا ٹکڑا غیر قانونی تھا اسے ریگولرائز کروانے کے لیے کارروائی کو یقینی بنایا جاتا اور نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو اس آزمائش سے نہ گزارا جاتا۔

اگر اسی وقت تمام کمرشل اور رہائشی عمارات کا سروے کروا کے یہ معلوم کیا جاتا کہ کس عمارت میں آگ لگنے کی صورت میں کیا ہنگامی اخراج ہے یا نہیں؟۔ کس عمارت کا این او سی غلط طریقے سے حاصل کیا گیا، انہیں ریگولرائز کروا کے قومی خزانے میں یہ رقم ڈالی جا سکتی تھی۔۔ گل پلازہ جیسے مزید کئی پلازہ اور صنعتی یونٹس کراچی میں ہیں جنہیں دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ ہم پھر منتظر ہیں کہ کوئی حادثہ ہو، کوئی کمیٹی بنے، کچھ عرصے شور مچے گا پھر سب کو حکومت معاوضہ دے گی اور پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگیں گے۔

شہریاریاں ۔۔۔ شہریار خان
دس جون 2026

مزید خبریں