مانچسٹر (روشن پاکستان نیوز): برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں پاکستانی ٹرانس جینڈر مہک ملک کی مختلف تقریبات میں شرکت اور رقص کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ان ویڈیوز پر صارفین کی جانب سے مذہبی، سماجی اور ثقافتی حوالے سے تنقید کی جارہی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مہک ملک مختلف تقریب میں رقص کرتی دکھائی دیتی ہیں جبکہ حاضرین میں خواتین اور دیگر مہمان بھی موجود ہیں۔ صارفین نے اس پر تنقید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ پروگرامز ایسے وقت میں منعقد ہوئے جب اسلامی کیلنڈر کے مطابق محرم الحرام کا مہینہ ابھی اختتام پذیر ہوا ہے اور ماہِ صفر کا آغاز ہوا ہے۔ ان کے مطابق مسلمانوں کو ان ایام میں اپنے طرزِ عمل، عبادات اور دینی اقدار کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے۔
برطانیہ: ہول بیک میں مرمت شدہ بند سڑک پر گاڑی پارک، حفاظتی ہدایات نظر انداز
اسلامی تعلیمات کے مطابق محرم الحرام چار محترم مہینوں میں سے ایک ہے، جسے عبادت، تقویٰ، صبر اور نیکی کے اعمال میں اضافہ کرنے کا مہینہ قرار دیا گیا ہے۔ بالخصوص 10 محرم (یومِ عاشوراء) کو اسلامی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے اور اس دن مختلف مسالک کے مسلمان اپنے اپنے عقائد کے مطابق عبادت، روزے اور حضرت امام حسینؓ اور واقعۂ کربلا کی یاد میں مختلف انداز سے عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔
اسی طرح ماہِ صفر بھی اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے۔ اسلامی تعلیمات میں صفر کو بذاتِ خود نحوست یا بدشگونی کا مہینہ قرار نہیں دیا گیا، تاہم مسلمان ہر مہینے کی طرح اس میں بھی دینی احکامات، اخلاقی اقدار اور نیک اعمال کی پابندی کے مکلف ہیں۔
ایک اور وائرل ویڈیو میں مہک ملک برطانیہ میں ایک تقریب یا پریس کانفرنس میں شرکت کے لیے پہنچتی دکھائی دیتی ہیں، جہاں متعدد صحافی اور سوشل میڈیا کریئیٹرز ان کی کوریج کرتے نظر آتے ہیں۔ اس منظر پر بھی سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے کیے گئے۔ بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ آیا میڈیا کو ایسی شخصیات کی سرگرمیوں پر غیر معمولی توجہ دینے کے بجائے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو درپیش معاشی، سماجی، تعلیمی اور دیگر اہم مسائل کو زیادہ نمایاں کرنا چاہیے۔
سوشل میڈیا کے دور میں متنازع اور سنسنی خیز مواد تیزی سے توجہ حاصل کر لیتا ہے، جس کے باعث اہم عوامی مسائل اکثر پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صحافت کا بنیادی مقصد متوازن رپورٹنگ، حقائق کی فراہمی اور عوامی مفاد کے موضوعات کو اجاگر کرنا ہونا چاہیے۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے اور اس پر مختلف آراء سامنے آرہی ہیں، تاہم اختلافِ رائے کے باوجود باہمی احترام، ذمہ دارانہ اظہارِ خیال اور اسلامی و معاشرتی اقدار کو پیشِ نظر رکھنا معاشرے کے مفاد میں ہے۔










