هفته,  29  اگست 2026ء
انسانی جانیں بچانے کا مشن، سائنسدانوں نے کاکروچ سے انوکھا کام لینا شروع کر دیا

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) زلزلوں، تباہ شدہ عمارتوں و دیگر قدرتی آفات کے دوران انسانی جانیں بچانے کیلیے سائنسدانوں نے سائبرگ کاکروچ تیار کر لیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے دنیا کے سب سے بڑے کاکروچ کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر کے ایسا پیرامیڈک نظام تیار کر لیا جو مستقبل میں قدرتی آفات کے دوران ملبے تلے دبے افراد تک جان بچانے والی ادویات پہنچانے کیلیے استعمال ہو سکے گا۔

یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ اور یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے سائنسدانوں نے مشترکہ تحقیق کے بعد منی ایچر انجیکشن ڈیوائسز اور کیمروں سے لیس سائبرگ کاکروچ تیار کیا، جس کا مقصد زلزلوں یا عمارتیں گرنے کے واقعات میں تنگ اور ملبے سے بھرے راستوں پر ریسکیو ٹیموں کے پہنچنے سے پہلے بنیادی طبی امداد فراہم کرنا ہے۔

وہ عام چیز جسے دہی میں شامل کرکے آپ معدے کی صحت کو بہترین بنا سکتے ہیں

جریدے ’ایڈوانسڈ سائنس‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے شریک مصنف کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں کو بڑے کاکروچ کا قریب آنا ناپسندیدہ لگ سکتا ہے، لیکن اگر کوئی شخص ملبے یا غار میں پھنسا ہو اور مدد کا طلبگار ہو تو یہ کیڑا زندگی اور موت کے درمیان فرق ثابت ہو سکتا ہے۔

محققین نے اس مقصد کیلیے نارتھ کوئنزلینڈ کے دیوہیکل بروئنگ کاکروچ کا انتخاب کیا جو دنیا میں اس کی سب سے بھاری قسم ہے اور اس کی لمبائی ساڑھے آٹھ سینٹی میٹر تک ہوتی ہے۔ اس کی پیٹھ پر سرنج سلنڈرز اور کیمروں پر مشتمل چھوٹے بیک پیکس نصب کیے گئے ہیں۔

اس سے قبل سائبرگ کیڑوں پر ہونے والی تحقیقات کا محور صرف لاپتا یا پھنسے ہوئے افراد کا پتا لگانا تھا جبکہ اس نئی تحقیق میں انہیں علاج کی صلاحیت سے بھی لیس کیا گیا ہے۔

مزید خبریں