اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) دنیا میں صرف 2 فیصد افراد کی آنکھیں سبز ہوتی ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ درحقیقت ان آنکھوں میں سبز رنگ نہیں ہوتا، ماہرین نے دلچسپ انکشافات کردیے۔
سبز آنکھیں ہمیشہ سے حسن، کشش اور پراسرار شخصیت کی علامت سمجھی جاتی رہی ہیں، دنیا بھر میں سبز آنکھوں والے افراد نہ صرف اپنی منفرد شخصیت بلکہ اپنی نایاب آنکھوں کی وجہ سے بھی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دنیا کی صرف تقریباً 2 فیصد آبادی قدرتی طور پر سبز آنکھوں کی حامل ہے، جس کی وجہ انہیں دنیا کا سب سے نایاب آنکھوں کا رنگ قرار دیا جاتا ہے۔
ماہرینِ کے مطابق سبز آنکھوں کا رنگ دراصل جینیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہوتا ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ سبز آنکھوں میں حقیقت میں سبز رنگ کا کوئی روغن موجود نہیں ہوتا بلکہ یہ رنگ آنکھوں میں موجود کم مقدار میں میلانین اور روشنی کے بکھراؤ کے باعث دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روشنی کے بدلنے کے ساتھ سبز آنکھیں کبھی ہلکی اور کبھی گہری محسوس ہوتی ہیں۔
گوشت اور چٹ پٹے پکوانوں پر ہاتھ ہلکا رکھیں، بہتر ہاضمے کیلئے ادرک اور گُڑ کا استعمال کریں: ماہرین
تحقیق کے مطابق آئرلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور شمالی یورپ میں سبز آنکھوں والے افراد کی تعداد سب سے زیادہ پائی جاتی ہے، آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ میں تقریباً 86 فیصد افراد کی آنکھیں نیلی یا سبز ہوتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنکھوں کے رنگ میں کم از کم 16 مختلف جینز کردار ادا کرتے ہیں، اسی لیے والدین کی آنکھوں کا رنگ بچوں کی آنکھوں کے رنگ کی مکمل ضمانت نہیں ہوتا، سبز آنکھیں ہر نسل اور خطے کے لوگوں میں پائی جاسکتی ہیں۔
چین کے ایک گاؤں “لیقیان” کو بھی سبز آنکھوں کی وجہ سے خاص شہرت حاصل ہے، جہاں آبادی کے ایک بڑے حصے کی آنکھیں سبز اور بال سنہرے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی ممکنہ وجہ قدیم رومی نسل سے تعلق ہوسکتی ہے۔
یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ نومولود بچوں کی آنکھیں پیدائش کے وقت عموماً بھوری یا نیلی ہوتی ہیں جبکہ سبز رنگ ابھرنے میں چھ ماہ سے تین سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
سبز آنکھوں سے متعلق مختلف لوک کہانیوں اور داستانوں میں ذہانت، تخلیقی صلاحیت، قیادت اور پراسرار شخصیت جیسی خصوصیات منسوب کی جاتی رہی ہیں، تاہم سائنس اس بات کی تصدیق نہیں کرتی کہ آنکھوں کا رنگ شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ سبز آنکھوں میں میلانین کم ہونے کی وجہ سے ایسے افراد سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں اور تیز روشنی کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں، اسی لیے انہیں دھوپ میں چشمہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
ماہرینِ امراضِ چشم کے مطابق سبز آنکھوں والے افراد بھی دیگر لوگوں کی طرح نزدیک یا دور کی کمزور بینائی کا شکار ہو سکتے ہیں، تاہم آنکھوں کا رنگ سرجری میں رکاوٹ نہیں بنتا۔











