اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)وفاقی دارلحکومت اسلام آبادمیں مضان المبارک کے مقدس مہینے میں مساجد کے باہر سیکیورٹی الرٹ نہ کی جاسکی۔اسلام آباد کے مرکزی سیکٹر جی سکس ون ٹو میں قائم مسجد اولیٰ کے باہر نماز تراویح اور نماز فجر کے وقت کوئی پولیس اہلکار ودیگر سیکیورٹی موجود نہیں تھی،ملکی حالات کے پیش نظر شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ مسجد کی سیکورٹی کو یقینی بنایاجائے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں جرائم کی شرح میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے، چوری، ڈکیتی سمیت دیگر سنگین وارداتیں معمول بن چکی ہیں ۔
ایسے ملکی حالات میںرمضان المبارک کا مقدس مہینہ اور مساجد کے باہر سیکیورٹی کا نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔
مزیدپڑھیں:سینٹ انتخابات تک عمران خان، شاہ محمود قریشی سمیت سیاسی قیدیوں سے ملاقات پر پابندی عائد
جبکہ اسلام آباد پولیس ترجمان کی جانب سے کہاگیا ہے کہ اسلام آباد کی سیکورٹی یقینی بنانے کے لئے 2500اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
مگر شہریوں کے مطابق حالات کو دیکھتے ہوئے وہ اہلکار اپنے گھروں اور تھانوں کے اندر تک ہی تعینات ہیں۔باہر نکلنے کے قابل نہیں۔جیسا کہ رات کو نماز تراویح پڑھائی گئی اور صبح سویرے مسجد اولی جی سکس میں نماز فجر کے وقت بھی کوئی پولیس اہلکار موجود نہ تھا۔
شہریوں اورنمازیوں نے کہاکہ یہ دونوں وقت ایسے ہیں کہ اسی دوران خدا نا خواستہ کسی بھی قسم کا کوئی سنگین واقع کسی کے ساتھ بھی پیش آسکتا ہے۔
اہل علاقہ نے حکام بالا سے اپیل کی کہ اپنے بیان کے مطابق اسلام آباد پولیس مساجد کے باہر سیکورٹی کو یقینی بنائے اور ان دونوں اوقات میں مسجد کے باہر پولیس کے جوان الرٹ ہونے چاہئیں تاکہ رمضان المبارک کے مہینہ میں شہری مسجد سے نکلتے وقت جرائم پیشہ عناصر سے محفوظ رہ سکیں۔











