سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
تم بہت نیگیٹو ہو/ اپنی سوچ مثبت کرو۔
تمہاری سوچ ٹھیک نہیں ہے،
تم بہت برا سوچتے ہو،
ہمیشہ دوسروں کے بارے میں غلط رائے کا اظہار کر دیتے ہو،
اپنی سوچ کو درست رکھو، مثبت سوچا کرو،
اب میں نہیں جانتا کہ آپ کو اس طرح کے جملے سننے کے مواقع ملتے ہیں یا نہیں لیکن مجھے تو اس طرح کی باتیں آئے روز برداشت کرنا پڑتی ہیں اور میں ان کہنے والے کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتا ،انہیں سمجھا نہیں سکتا کہ میرے دل و دماغ میں کیا چل رہا ہے۔
دراصل ہم سب لوگ اپنی کلاس کو، اپنے بیک گراؤنڈ کو، اپنے حالات کو ریپریزینٹ کرتے ہیں۔ دنیا کا ہر شخص اپنے ایک علیحدہ ماحول، براٹ اپ، مختلف تعلیم کے سبب مختلف تجربات سے گزرتا ہے اور پھر یہی تجربات اس انسان کا اعتماد، بیلیف یا یقین بن جایا کرتے ہیں ۔
آپ کو یہاں ساحر لدھیانوی، معروف بھارتی فلموں کے شاعر کی نظموں کی کتاب تلخیاں کا حوالہ دیتا ہوں جس کے پہلے صفحہ پر لکھا ہے
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے لوٹا رہا ہوں میں۔
اب آگے چلتے ہیں،
فرض کیجئے کہ اگر ایک نوجوان کو محبت میں ناکامی ہو اور وہ ناکامی بھی اس لڑکی کی بے وفائی کے سبب ہو نہ کہ دونوں گھرانوں کے افراد کی نا پسندیدگی کے باعث، تو نوجوان کا تصور محبت پاش پاش ہو جائے گا اور اگر یہی واقعہ بار دیگر رونما ہوتا ہے تو پھر اس کا یہ ایمان بن جائے گا کہ یہ عورت ذات، بے وفا ہوا کرتی ہے
اور دوسری طرف اگر کسی مرد کو پہلی محبت ہی میں کامیابی ملے اور اس کی شادی بھی ہو جائے اور پھر وہ زندگی بھر کسی اور لڑکی کا تجربہ حاصل نہ کر سکے تو اس کا وفا اور محبت پر یقین کامل رہے گا۔
اب اس کو دوسری طرف سے دیکھتے ہیں،
ایک نوجوان لڑکی کسی کے ساتھ ریلیشن شپ میں آتی ہے تو محسوس کرتی ہے کہ وہ شخص اس سے صرف جسمانی تعلق چاہتا ہے، اس کو چھوڑ کر اپنے فطری جذبے کے تحت دوسرے اور تیسرے مرد کی دسترس میں پہنچتی ہے تو وہاں بھی یہی پاتی ہے کہ یہ سارے مرد جنسی درندے ہیں۔
تب وہ لڑکی تمام مردوں پر جانور ،ہوس کے پجاری، جنسی وحشی کی مہریں ثبت کر دے گی ۔
اب آپ اس سے ہزار بار کہیں کہ اپنی سوچ درست رکھو،
مردوں کے بارے میں تمہارے رائےٹھیک نہیں تو مجھے بتائیے کہ اس سب سے کیا حاصل ہوگا؟
اس کا جو نظریہ ،جو فلاسفی، جو یقین ،اپنے تجربات سے حاصل ہو چکا ،وہی اس کے لیے حقیقت ہے۔
مرد ہونے کے ناطے میں یہ جانتا ہوں کہ 95 فیصد مرد ہر عورت کو ننگا دیکھنا چاہتے ہیں، باقی پانچ فیصد کو میں اس لیے رعایت دے رہا ہوں کہ کہ اپنے خاندانی پس منظر ،دینی اور مذہبی پابندیوں کے باعث ایسا سوچتے ہوئے احساس گناہ میں گھر گھر جاتے ہیں لیکن دل سے ان کی بھی یہی تمنا ہوتی ہے کہ اس کے نازک بدن کو اچھے سے دیکھ لیں، اس کے ہر حصے کو چھو لیں اور اسے بے لباس دیکھیں،
مردوں کے یہ سفلی جذبات، دنیا کی ہر بالغ ہوتی ہوئی لڑکی کے دماغ میں وحی کر دئے جاتے ہیں۔
تو اب اگر میں خواتین کو مخاطب کر کے کہوں کہ مرد تو اچھے بھی ہوتے ہیں ،مرد تو بڑے نیک ہیں، اللہ کے بڑے برگزیدہ بندے ہیں، تم اپنی سوچیں درست کر لو ،پازیٹو سوچو تو سب ٹھیک ہو جائے گا؟
اور کیا میری اس طرح کی احمقانہ باتوں سے مردوں کی نفسیات تبدیل ہو جائے گی یا کیا خواتین کے مردوں کے بارے میں تصورات میں بہتری آئے گی؟
نہیں ،ہرگز نہیں، ایسا کبھی نہ ہوگا ۔
اور دوسری طرف میں نوجوانوں کے لیے بھی بہت فکر مند رہا کرتا ہوں، ہر وقت انہیں سمجھاتا ہوں کہ شیطان اور عورت کے شر سے اللہ تمہیں بچائے،
جس نوجوان کو دیکھتا ہوں افسردہ اور پریشان ہو جایا کرتا ہوں اور اسے تلقین کرتا ہوں کہ پہلے اپنی تعلیم مکمل کر لینا، پہلے اسٹیبلش ہو جانا، کہیں جاب حاصل کر لینا، اس کے بعد عشق وشق اور لڑکی کے چکر میں پڑنا ورنہ لڑکی نہ صرف تمہاری جیب خالی کرے گی بلکہ تمہارا فیوچر بھی برباد کر دے گی، تمہیں کہیں کا نہ چھوڑے گی، لڑکی کے ایک دھکے سے تم گہری کھائیوں میں جا گرو گے جس سے واپس آنا ممکن نہ رہے گا،
تم ہر وقت یہی سوچتے رہو گے کہ تم سے ایسی کیا غلطی ہوئی کہ اس نے تمہیں چھوڑ دیا ؟
نہیں بھائی تم سے کوئی غلطی نہیں ہوئی، تم نے صرف یہ غلطی کی کہ تم نے اس سے محبت کی، اس کا خیال رکھا، جب کہ تم اپنی نا تجربہ کاری کے سبب، سچائی سے لاعلم رہے کیونکہ لڑکی کو تمہارے خلوص، تمہاری تعلیم ،تمہاری شباہت سے کوئی سروکار نہیں ہے
اور دنیا میں کوئی مرد یہ نہیں جان پایا کہ عورت مرد سے درحقیقت چاہتی کیا ہے اور اس سے بڑا ظلم یہ ہے کہ آج تک کوئی عورت بھی کسی مرد کو یہ نہیں سمجھا سکی کہ وہ اس سے کیا چاہتی ہے
اور اب اگر میں انسانیت کا ننگا پن آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں تو کیا میری سوچ خراب ہے؟
مجھے پوزیٹو سوچنا چاہیے کیونکہ میں نیگٹو سوچتا ہوں؟
میرے علم کے مطابق اس دنیا میں تین طرح کے قوانین تو اٹل ہیں،
ایک ہیں کائناتی قوانین ،
پھر ہیں طبعی قوانین اور سماجی قوانین ۔
کائناتی قوانین تو یہ ہیں کہ جیسے سورج روشنی بکھیرتا ہے، مشرق سے نکل کر مغرب میں ڈوبتا ہے،
دن کے پیچھے رات چلی آتی ہے اور رات کو پھر دن ڈھانپ لیتا ہے۔
سورج ،چاند اور دوسرے فلکیاتی سیارے، کائناتی قوانین کے تحت محو گردش ہیں
اور پھر طبعی قوانین میں قدرت نے انسان کی ساخت جس طرح بنائی ہے اور اس کے رویوں سے جو نتائج برآمد ہوتے ہیں انہیں طبعی قوانین کہا جاتا ہے۔
اگر انسان غصہ کرے تو اس کی عقل ماری جاتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ غصے میں فیصلہ نہ کرو، تھوڑا وقفہ کر لو، غصے کی حالت میں کوئی بھی لیا گیا فیصلہ ٹھیک نہیں ہوا کرتا بلکہ نقصان ہی پہنچایا کرتا ہے ۔
حسد کرو گے تو دھیرے دھیرے تم ساری اچھی صلاحیتیں کھوتے چلے جاؤ گے، حسد ایسے ہی ہے جیسے گیلی لکڑی کو آگ لگ جائے اور وہ آہستہ آہستہ ساری لکڑی کو کھا جاتی ہے،
جو انسان زیادہ محنت کرے گا وہ ایک نکمے اور سست انسان سے زیادہ بہتر نتائج دے سکے گا ۔
اب آتے ہیں سماجی قوانین کی جانب جس کے بموجب یہ لالچی اور خودغرض معاشرہ ہے، یہاں کوئی کسی کا ہمدرد نہیں، ہر کوئی کسی کو لوٹنے کیلئے گھات لگائے بیٹھا ہے،
کوئی آپ کا سچا دوست نہیں اور آپ بھی کسی کے سچے دوست نہیں ہیں،
کوئی آپ کا قابل اعتماد رشتہ نہیں ہے اور آپ بھی کسی کے لیے قابل اعتماد رشتے میں نہیں ہیں۔
کسی کے ساتھ آپ ہمدردی کریں گے تو وہ آپ کو زیادہ استعمال کرے گا ،کسی سے محبت کا رشتہ رکھو گے تو وہ آپ کو یوز کر لے گی یا کر لے گا ۔کسی کو ادھار دو گے تو پیسہ بھی گیا اور تعلق بھی۔
تو اب آپ سے میرا یہ پوچھنا ہے کہ یہ سماجی قوانین کیا میں نے بنائے ہیں یا میں نے ترتیب دیئے ہیں؟
اور اگر میں ان خود غرضیوں کی، ان کی ہے حسیوں کی جانب توجہ مبذول کرواتا ہوں تو مجھے یہ سننا پڑتا ہے کہ تمہاری سوچ ٹھیک نہیں ،
اپنی سوچ کو پوزیٹو بناو، نیگیٹو نہ سوچا کرو ۔
چلیں میں آج سے کہنا شروع کرتا ہوں کہ
غریبو تمہاری اس دنیا میں بہت عزت ہے،
تم ہاسپٹل جاتے ہو تو تمہارا وی آئی پی علاج ہو جائے گا،
تم انصاف لینے جاؤ گے تو تمہیں فوری اور سستا انصاف عدالتیں مہیا کریں گے۔
تو اے غریبو تم اچھے سکول اور یونیورسٹی میں پڑھو گے، بس تم نے اچھا سوچنا ہے،
اچھی امید رکھنی ہے ،
آج میں یہی کہنا شروع کرتا ہوں کہ حسن کی کوئی ویلیو نہیں، خوبصورتی کوئی معنی نہیں رکھتی ،ایک خوبصورت لڑکی اور مرد کے مقابلے میں بدصورت لوگ زیادہ توجہ کے مستحق ہیں،
بس بری شکلوں والوں کو، عورتوں کو، مردوں کو اپنی سوچ ٹھیک رکھنی اور پازیٹو رہنا ہے ۔
میں آپ کو ایک تجربہ بیان کرتا ہوں جو سماجی سائنس دانوں نے یورپ کے کسی ملک میں کیا تھا ۔
ایک ہاسپٹل میں چند مریض خواتین اور مرد میک اپ کر کے زخمی حالت میں لائے گئے ۔
سماجی سائنس کے ماہرین نے رپورٹ میں لکھا کہ ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف نے ان زخمیوں میں، خواتین زخمیوں کو پہلے ٹریٹمنٹ کے لیے آپریشن تھیٹر منتقل کیا۔
اس سے بڑھ کر یہ کہ جو خوبصورت زخمی خواتین تھیں انہیں پہلے توجہ دی گئی۔
تو اب میں یہی کہوں گا کہ خوبصورت تو خوبصورت ہی ہوتا ہے، آپ خدا کے لیے یہ نہ کہا کریں کہ خوبصورتی تو انسان کے دل کی ہوتی ہے کہ انسان اندر سے کتنا خوبصورت ہے۔ لیکن میرے بھائی اور میری بہنوں ہر شخص ایکسرے مشین ساتھ لیے نہیں پھرتا کہ وہ جان سکے کہ آپ کا دل کتنا حسین ہے۔
اس دنیا میں چہرے اور دولت ہی تو دیکھی جاتی ہے باقی تو اپنا کچھ بھی نہیں۔
اب بھی اگر آپ مجھے یہ کہیں گے کہ تم اپنی سوچ درست کرو، ایسی باتیں نہ کیا کرو۔
تو پھر میں یہ کہوں گا کہ میں تو ایسے ہی سوچوں گا اور ایسی ہی باتیں کروں گا۔
آپ جائیں بھاڑ میں











