پیر,  05 اکتوبر 2026ء
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیس، ریکارڈ پیش نہ کرنے پر جج ابو الحسنات کی ڈی ایس پی لیگل پر شدید برہمی

اسلام آباد(محب)  انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے انسانی حقوق کی وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کے دوران کیس کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پر ڈی ایس پی لیگل پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف یہ مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں احتجاج کے دوران سڑکیں بلاک کرنے، نعرے بازی اور پولیس سے مبینہ مزاحمت کے الزامات کے تحت درج ہے۔ اس مقدمے میں پولیس کی جانب سے انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 7 بھی شامل کی گئی ہے۔ دونوں ملزمان نے اس مقدمے میں ضمانت کے لیے درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

آج سماعت کے دوران جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے ڈی ایس پی لیگل سے کیس کا ریکارڈ طلب کیا اور استفسار کیا کہ کیس کا ریکارڈ کہاں ہے؟ عدالت نے اس موقع پر ہتھکڑی منگوا لی جبکہ سیکیورٹی انچارج کو بھی عدالت میں طلب کرلیا۔

ڈی ایس پی کی جانب سے انگریزی میں بات کرنے پر جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’میرے ساتھ اردو میں بات کرو۔‘‘

ڈی ایس پی لیگل نے عدالت کو بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق تفتیشی افسر گلگت بلتستان میں موجود ہے۔ اس پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایسے ہی عدالت آگئے ہیں، مجھے زبانی کلامی باتیں پسند نہیں۔

ڈی ایس پی لیگل نے عدالت سے کچھ وقت دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ وہ صورتحال کے بارے میں معلومات فراہم کردیں گے۔ جج ابو الحسنات نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ریکارڈ پر کوئی چیز موجود نہ ہوئی تو وہ ڈی ایس پی اور ایس پی دونوں کو چھ ماہ کے لیے جیل بھیج سکتے ہیں۔

جج نے مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں نے بدمعاشی بنا رکھی ہے، شرم آنی چاہیے۔ انہوں نے ڈی ایس پی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’ادھر کٹہرے میں الٹا منہ کرکے کھڑا کروں گا، یہ کوئی طریقہ ہے؟‘‘

اسلام آباد: وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی حریت کانفرنس قیادت سے ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

جج ابو الحسنات نے مزید کہا کہ ثبوت پیش کریں، اگر ثبوت نہ ہوا تو وہ اسی وقت چھ ماہ کے لیے جیل بھیج دیں گے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ بعد میں عدالتوں پر بات آتی ہے، یہاں ڈرامہ بنا ہوا ہے۔

عدالت نے ڈی ایس پی کو متنبہ کیا کہ اگر ان کی بات درست ثابت نہ ہوئی تو انہیں یونیفارم سمیت جیل بھیج دیا جائے گا۔ جج نے واضح کیا کہ وہ زبانی وضاحتوں کے بجائے ریکارڈ اور ثبوت دیکھنا چاہتے ہیں۔

بعد ازاں ڈی ایس پی لیگل نے عدالت میں انکوائری افسر کے گلگت بلتستان میں موجود ہونے کا سرٹیفیکیٹ پیش کردیا۔ ڈی ایس پی لیگل نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر سے رابطہ نہیں ہو رہا اور اسے واپس آنے میں تقریباً 10 سے 15 دن لگ سکتے ہیں۔

جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے سرٹیفیکیٹ وکلا کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈووکیٹ ریاست علی آزاد کو بھی دکھایا اور واضح کیا کہ اگر یہ سرٹیفیکیٹ غلط ثابت ہوا تو وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔

سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ تفتیشی افسر سے گلگت بلتستان میں رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ عدالت نے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی ایس پی لیگل سے ریکارڈ اور تفتیشی افسر سے متعلق مکمل معلومات طلب کیں۔

واضح رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ستمبر میں سپریم کورٹ کی جانب سے ایک الگ سوشل میڈیا کیس میں ضمانت ملنے کے چند گھنٹوں بعد تھانہ کوہسار میں درج احتجاج کے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 17 ستمبر کو ان کی سزائیں معطل کرتے ہوئے ضمانت منظور کی تھی، تاہم بعد ازاں پولیس نے انہیں مذکورہ مقدمے میں گرفتار کرلیا۔

اس احتجاج کیس میں انسداد دہشتگردی عدالت نے دونوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا تھا، جبکہ بعد میں ان کی ضمانت کی درخواستیں دائر کی گئیں۔ 29 ستمبر کو عدالت نے ان درخواستوں پر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 5 اکتوبر کو دلائل کے لیے سماعت مقرر کی تھی۔

دوسری جانب ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں درج ایک الگ مقدمے میں انسداد دہشتگردی عدالت نے 6 اکتوبر کو فردِ جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کر رکھی ہے۔ اس مقدمے میں دونوں پر پولیس سے مبینہ بدسلوکی اور پروٹوکول کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔

ادھر عدالت میں کارروائی کے دوران آئین کی بحالی کی تقریب کے شرکا بھی وہاں سے اٹھ کر جانا شروع ہوگئے۔

مزید خبریں