بدھ,  26  اگست 2026ء
سانحہ پمز پر خود کو احتساب کیلئے پیش کردیا، وزیراعظم میرے باس ہیں، وہ جو بھی فیصلہ کریں: مصطفیٰ کمال

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انہوں نے پمز  اسپتال سانحے پر خود کو احتساب کےلیے پیش کردیا۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز  اسپتال کے باہر میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی غلطی کا مرتکب ہوا اسے نہیں چھوڑیں گے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے استعفا دینے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ احتساب کیلئے سب سے پہلے خود کو وزیراعظم کے آگے پیش کیا ہے، وزیراعظم میرے باس ہیں، وہ جو بھی فیصلہ کریں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا دوسرے دروازے پر گارڈ کی 24 گھنٹے ڈیوٹی ہے، اسی دروازے سے نومولود چوری ہوتے تھے، انخلا کے راستےمیں گارڈ کی ڈیوٹی ہے وہ 24 گھنٹے وہاں ہوتے ہیں، بچوں کے چوری ہونے کی وجہ سے ایک دروازے پرگارڈ کی تعیناتی تھی۔

پمز اسپتال واقعہ: وفاقی سیکرٹری صحت عہدے سے برطرف، وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی بنادی

وفاقی وزیر نے کہا 6 بج کر 38 منٹ پر نظر آرہا ہے کہ ایئرکنڈیشن کے پاس اسپارک ہوا ہے، 6 بج کر 39 منٹ پر لوگوں کو بھاگتے دیکھا جاسکتا ہے، کوئی بھی چیز چھپے گی نہیں، ثبوت سامنے آئیں گے، اس پورے واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں، انکوائری رپورٹ دو تین روز میں آجائے گی، اگر کسی نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تواسکو نہیں چھوڑیں گے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا ائیرپورٹ سے سیدھا اسپتال پہنچا ہوں، یہاں سے وزیراعظم کے پاس جاؤں گا۔

مزید خبریں