کیا سسر کی جائیداد بہو کو حق مہر میں دی جا سکتی ہے؟ اہم فیصلہ جاری

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سپریم کورٹ میں حق مہر میں سسر کی جائیداد کی شمولیت کے تنازع پر جسٹس مسرت ہلالی نے اہم فیصلہ جاری کردیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حق مہر میں سسر کی جائیداد شامل کرنے سے متعلق ایک اہم تنازع پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی بھی تیسرے شخص کی ملکیت کو اس کی رضا مندی کے بغیر حق مہر کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔

جسٹس مسرت ہلالی نے کیس کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا۔

ایک بے گناہ کو سزا دینے کے بجائے 10 گنہگاروں کو بری کردینا زیادہ بہتر ہے، سپریم کورٹ

عدالت نے واضح کیا کہ جائیداد چاہے سسر کی ہی کیوں نہ ہو، مالک کی اجازت کے بغیر اسے بہو کے حق مہر میں لکھنا قانونی طور پر غلط ہے۔

سپریم کورٹ نے مدعیہ کے حق میں جاری ہونے والی ایک کنال پلاٹ کی ڈگری منسوخ کر دی، ریکارڈ کے مطابق رنگ روڈ پشاور پر واقع یہ پلاٹ سسر کی ملکیت تھا اور اس نے اسے دینے کی رضا مندی نہیں دی تھی۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ نکاح کے بعد تیار کردہ ‘کابین نامہ’ قانونی طور پر ثابت نہیں ہو سکا۔ گواہان دستاویز کی تیاری اور دستخط کے وقت اپنی موجودگی ثابت کرنے میں ناکام رہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ فیملی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ نے شواہد کو درست طریقے سے نہیں پڑھا اور ملکیت کے اہم پہلو کو نظر انداز کیا، جس کی وجہ سے قانونی غلطی ہوئی۔

عدالت نے حق مہر میں شامل ایک کنال پلاٹ کی حد تک تمام سابقہ فیصلے کالعدم قرار دے دیے گئے، حق مہر میں شامل دیگر اشیاء بشمول 5 لاکھ روپے اور سونے کے زیورات کی حد تک سابقہ فیصلے برقرار رکھے گئے ہیں۔

مزید خبریں