کراچی (روشن پاکستان نیوز) موسم گرما کے آغاز پر گرمی کا عالم بہت سے لوگوں کیلیے ناقابل برداشت ہے لیکن جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے ہیٹ اسٹروک کے خدشات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
گزشتہ روز کراچی میں شدید گرمی کے سبب 10 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات تھیں، اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں ہربلسٹ غالب آغا نے شدید گرمی سے محفوظ رہنے کیلیے چند کارآمد اور مفید مشورے دیے۔
انہوں نے بتایا کہ شدید گرمی اور حبس کے باعث ہیٹ اسٹروک اور جسم میں نمکیات کی کمی کے خطرات بڑھ گئے ہیں، ہماری روایتی غذا اور مشروبات گرمی کے اثرات سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ماہرِ جڑی بوٹیاں غالب آغا نے کہا کہ شدید گرمی انسانی صحت کے لیے خطرناک صورت اختیار کر چکی ہے، جبکہ ہیٹ اسٹروک کے باعث اموات کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔
غالب آغا کے مطابق ستو، فالسے کا شربت، تربوز کا جوس، الائچی کا شربت اور ٹھنڈائی جیسے مشروبات جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے کے ساتھ معدے کی خرابی، گیس، کمزوری، تھکن اور نمکیات کی کمی جیسے مسائل سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
’’گیس کنکشن حاصل کرنے کیلیے شادی کی شرط عائد‘‘ کس نے کیا یہ انوکھا اعلان؟
انہوں نے کہا کہ بعض افراد سادہ پانی زیادہ مقدار میں نہیں پی سکتے، ایسے افراد کے لیے لیموں، پودینہ، کھیرے اور دیگر پھلوں پر مشتمل ’ڈیٹاکس واٹر‘ مفید ثابت ہوسکتا ہے، تاہم جسم میں الیکٹرولائٹس کی کمی پوری کرنے کے لیے ایک آسان گھریلو مشروب بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔
گھریلو مشروب بنانے کا آسان طریقہ
انہوں نے بتایا کہ ڈیڑھ لیٹر پانی میں آدھا چائے کا چمچ میٹھا سوڈا، لیموں، نمک اور چینی شامل کرکے تیار کیا گیا مشروب گرمی اور پسینے کے باعث ہونے والی نمکیات کی کمی کو پورا کرنے میں مدد دیتا ہے۔
انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ اسکول سے واپس آنے والے بچوں کو یہ مشروب ضرور پلائیں تاکہ وہ پانی اور نمکیات کی کمی سے محفوظ رہ سکیں۔
انرجی ڈرنکس سے اجتناب کیوں ضروی ہے؟
انہوں نے مصنوعی انرجی ڈرنکس کے استعمال سے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان میں شوگر اور کیمیکلز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو طویل مدت میں صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
غالب آغا نے بتایا کہ عرقِ گلاب میں شہد ملا کر اسپرے کی صورت میں استعمال کرنے سے سن برن اور جلد کی خشکی میں افاقہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق 100 ملی لیٹر عرقِ گلاب میں ایک چائے کا چمچ شہد شامل کرکے فریج میں رکھا جا سکتا ہے، تاہم اسے 48 گھنٹوں کے اندر استعمال کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے موٹر سائیکل سواروں کے لیے املی اور آلوبخارہ کے شربت کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جسمانی گرمی کم کرنے، معدے کے مسائل اور پانی کی کمی سے بچانے میں مددگار ہے۔
ماہرِ جڑی بوٹیاں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ دوپہر 12 سے 3 بجے کے درمیان خصوصی احتیاط کریں، تازہ اور ہلکی غذا استعمال کریں اور باہر کی غیر معیاری برف اور خراب کھانوں سے گریز کریں، کیونکہ گرمی میں آلودہ خوراک اور مشروبات ہیضہ، ہیپاٹائٹس اور دیگر بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔











