پشاور(روشن پاکستان نیوز) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صحافیوں کو میڈیا سیٹ اپس کے لیے بلا سود قرضوں کی فراہمی کی اسکیم تجویز کرنے کی ہدایت کردی۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت سالانہ ترقیاتی پروگرام 2026-27 سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اطلاعات، سائنس و ٹیکنالوجی، قانون، مائنز اور لیبر ڈیپارٹمنٹس کے متعدد نئے اور انقلابی منصوبوں پر غور کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے میڈیا سے وابستہ افراد کی فلاح و بہبود کے لیے بڑے اعلانات کئے ، جس میں نوجوان صحافیوں کو اپنا میڈیا سیٹ اپ اور پلیٹ فارمز قائم کرنے کے لیے بلا سود قرضوں کی فراہمی کی اسکیم تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے صحافی معاشی طور پر خود مختار ہوں گے اور اپنے پیشہ ورانہ فرائض آزادانہ طور پر انجام دے سکیں گے۔
اجلاس میں صوبے میں میڈیا کالونیوں کے قیام اور ضم اضلاع میں پریس کلبز کی حالت بہتر بنانے کے لیے بھی اسکیمیں تیار کرنے کا حکم دیا گیا۔
اجلاس میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں صوبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کئی تجاویز پیش کی گئیں، جس میں پشاور میں ڈرون سینٹر آف ایکسیلنس اور سائبر سیکیورٹی آپریشن سینٹر کا قیام اور ضم اضلاع میں ڈیجیٹل سٹی، انٹرن شپ پروگرام اور ٹیکنالوجی انکیوبیشن سینٹرز کا قیام شامل ہیں۔
پاکستانی معیشت کے لئے بڑی خبر! تقریباً 38 کروڑ ڈالر کا نیا قرضہ ملنے کا امکان
اس کے ساتھ ہی معدنیات کی جیولوجیکل میپنگ اور کریٹیکل منرلز کے لیے انٹیگریٹڈ جیو سائنس سروے کی تجویز دی گئی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ تمام جوڈیشل کمپلیکسز میں ڈے کیئر سینٹرز کا قیام، جبکہ پشاور میں جوڈیشل اکیڈمی اور باجوڑ و مانسہرہ میں نئے جوڈیشل کمپلیکسز تعمیر کیے جائیں گے۔
ورک پلیس ہراسانی قانون کو مزید سخت کرنے اور شکایات کو خفیہ رکھنے کے لیے قانونی ترامیم کی ہدایت بھی کی گئی۔
وزیراعلیٰ نے صوبے سے چائلڈ لیبر کے خاتمے اور مزدوری کرنے والے بچوں کو تعلیمی دھارے میں شامل کرنے کے لیے فوری اسکیم تیار کرنے کا حکم دیا۔











