مہنگی بجلی اور اشیائے ضروریہ خریدنے کی سکت ختم،شہریوں کے آنسونکل آئے

لاہور(روشن پاکستان نیوز)مہنگائی کی وجہ سے جس طرح عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی کا بے قابو جن غریبوں کو نگل رہا ہے۔

آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی، بھوک و افلاس اور انتہائی شدید قسم کے غذائی بحرانوں نے عالمی سطح پر سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔

مہنگائی کے خوفناک آسیب نے عوام کو مصائب سے دوچار کر دیا ہے۔

مہنگائی کی اس صورتحال نے دہشت ناک منہ کھول رکھا ہے۔

اس خوفناک صورتحال نے پاکستان کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

چند برسوں میں روز مرہ کے استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ جو غریب عوام پر ظلم ہے۔ اور موجودہ دور میں اس ظلم کے خلاف کوئی بھی آواز بلند نہیں کر رہا۔

آئے روز پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کے چھکے چھڑوا دیئے ہیں۔جس طرح مہنگائی کے عفریت نے عوام کو جکڑ لیا ہے، اس کے سامنے ہر کوئی بے بس دکھائی دے رہا ہے۔

تعلیم، ادویات کرائے اورروز مرہ کی اشیا غریب کی دسترس سے بالا تر ہوتی جارہی ہیں۔

نہ صحت نہ تعلیم نہ رہائش آخر غریب کے لیے ہے کیا؟

مہنگائی کے باعث کئی افراد خود کشی کرنے پرمجبورہو رہے ہیں۔ اس وقت ملک میں آٹا گھی چینی اوربجلی کے بلوں سمیت ہر چیز آؤٹ آف کنٹرول ہوچکی ہے۔

جسے دیکھ کر لگتا ہے حکومت غربت کے بجائے غریب ختم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

مہنگائی کی اس خوفناک اور دہشت ناک صورتحال کو دیکھ کر مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس ملک اور اس کے عوام کس صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

چند برسوں میں روز مرہ کے استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں 200فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے۔

پاکستان میں مہنگائی نے وہ ظلم ڈھائے ہیں کہ اس کے اثرات نسل در نسل دیکھے جائیں گے۔

موجودہ دور میں مہنگائی کی شرح میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ اس نے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں بلکہ لگتا ہے بات چیخوں سے آگے نکل گئی ہے۔مہنگائی نے عوام کی سفید پوشی کا بھرم بھی توڑ دیا ہے۔

بجلی کے بلوں میں اوور بلنگ نے شہریوں کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔

ایک بزرگ شہری نے بتایاکہ کام ملتا نہیں جبکہ بجلی کا بل 22ہزار روپے آگیا ہے ۔

ایک اور شہری نے کہاکہ ادھار لیکر گھر کا نظام چلا رہاہوں اتنی سکت نہیںکہ بجلی کے بل اداکرسکوں یا کوئی اور کام کرسکوںجس سے میرا ذریعہ آمدن بڑھ جائے ۔

مہنگائی کی وجہ سے سب سے زیادہ سفید پوش طبقہ متاثر ہوا ہے کیونکہ یہ طبقہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا اپنی توہین سمجھتا ہے۔ مہنگائی کا سانپ اپنا پھن پھیلائے بیٹھا ہے اور حکمران اس کے آگے لاچار نظر آتے ہیں۔

حکمرانوں کے بے بس ہونے کی قیمت صرف عوام کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ تڑپتے، بلکتے اور سسکستے عوام حکمرانوں کی نظروں سے اوجھل ہیں یا انہوں نے کبوتر نے بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلی ہیں۔

خدارا حکمران ہوش کے ناخن لیں اور مہنگائی کے بے قابو جن کو بوتل میں بند کرکے عوام کو ریلیف فراہم کریں۔

مزید خبریں