تربیت کا فقدان یا شدت پسندی؟بیٹیوں کے حوالے سے زیرگردش متنازعہ ویڈیوزپر صارفین برس پڑے

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سوشل میڈیاصارفین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زیر گردش ویڈیوکی سختی سے مذمت کی ہے جس میں نعت کے انداز میں بیٹیوں والوں کو پردہ نہ کرانے پر لعنتیں بھیجی جارہی ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین نے زیرگردش ویڈیو پر ایسے علماکو خوب آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ لڑکیوں کو تعلیم سے روکنے کیلئے سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری کرنا انتہائی قابل مذمت فعل ہے،خواتین کی تعلیم کے بغیر کوئی بھی ملک یا معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔

زیرگردش ویڈیوز میں اسی طرح کی بنیادوں پر خواتین کے موبائل فون کے استعمال کی مذمت کی گئی ہے۔ ان ویڈیوز میں استعمال کی گئی زبان نہ صرف توہین آمیز ہے بلکہ بدسلوکی اور ممکنہ طور پر تشدد پر اکسانے والی بھی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے کہاکہ اس طرح کی گہرائی میں بیٹھی بدتمیزی کو فوراً ختم کیا جانا چاہیے، مذہبی انتہا پسندی کا شکارسب سے پہلے خواتین ہی ہوتی ہیں،جو کہ نہ صرف آئین پاکستان بلکہ انسانیت کے بھی خلاف ہے،حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر ایکشن لے اور عوام کے ساتھ ملکر انتشار پسند ٹولے کا محاسبہ کرے۔

واضح رہے کہ ایک اندازے کے مطابق 12 ملین لڑکیاں باہر ہیں،اسکول، خواتین کی نقل و حرکت پر وسیع ثقافتی پابندیاں اور خطرناک حد تک زیادہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے واقعات کو پاکستان کوئی جگہ دینے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

توہین آمیز اور خواتین مخالف بیان بازی پرریاست کو فوری طور پر مضبوط اور مستقل عوامی خدمت کے پیغامات کے ذریعے ایسے بیانیے کا مقابلہ کرنا چاہیے جو لڑکیوں کے تعلیم کے حق کو برقرار رکھتے ہیں۔

ایک سوشل میڈیاصارف نے لکھا کہ اس پلیٹ فارم پر ٓجاری کی جانیوالی ویڈیوز انتہائی شرمناک ہیں جن میں صنف نازک کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔

ایک اور صارف کاکہنا تھا کہ ہمارا معاشرہ تنزلی کا شکار ہے، دین اسلام میں وسیع القلبی ہے، اسلام دنیا کے تمام انسانوں کو زندگی کے تمام بنیادی حقوق دیتا ہے،سوشل میڈیا پر خواتین کی تعلیم کے حوالے سے زیر گردش ویڈیوز کے حوالے سے حکومت خاموش ہو کر مت بیٹھے بلکہ اپنا کردار ادا کرے۔

ایک خاتون نے لکھا کہ عورتوں کی تذلیل کسی صورت قبول نہیں، عوام فیصلہ کرے کہ اسے بابا بھلے شاہ، وارث شاہ جسیے صوفیاء کی دھرتی چاہیئے یا مٹھی بھر انتہا پسندوں کی،آئین کا آرٹیکل 25 اے  خواتین کے تمام بنیادی حقوق کے تحفظ کا ضامن ہے،حکومت اس معاملے پر فوری نوٹس لے۔

مزید خبریں