اسلام آباد(اصغر علی مبارک)چینی قیادت سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف سی پیک فیز ٹو منصوبے کے لیے پر امید ہیں۔ وزیر اعظم نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے پاک چین اقتصادی راہداری کی اپ گریڈیشن اور فیز ٹو پر اتفاق کیا ہے۔ جاری اعلامیے کے مطابق شہبازشریف نے بیجنگ کے تاریخی گریٹ ہال آف دی پیپل میں چینی صدر شی جن پنگ سے طویل اور تفصیلی ملاقات کی۔ چینی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی ملاقات تھی جس میں وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
وزیراعظم نے چین میں پرتپاک استقبال پر صدر شی جن پنگ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے 2015 میں صدر شی جن پنگ کے پاکستان کے تاریخی دورے کا حوالہ دیا اور پاک چین اقتصادی راہداری کو باضابطہ فعال کرنے کا تذکرہ بھی کیا۔ جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان موجود پائیدار شراکت داری کی توثیق کی اور اسے مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے سیاسی ، سیکورٹی ، اقتصادی، تجارتی اور عوام سے عوام کے تبادلے سمیت دیگر مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ ملاقات میں علاقائی اور عالمی امور بشمول افغانستان، فلسطین اور جنوبی ایشیا بشمول بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیرمیں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے بنیادی دلچسپی کے امور پر اپنی دیرینہ حمایت کا اعادہ کیا۔ صدر شی کے وژنری بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (جی ڈی آئی) کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بی آر آئی کے فلیگ شپ منصوبے کے طور پر، چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک نے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے سی پیک کے تحت جاری بڑے منصوبوں کی بروقت تکمیل پر اتفاق رائے کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے سی پیک کی اپ گریڈیشن اور دوسرے مرحلے میں سی پیک کے تحت ترقیاتی منصوبوں آگے بڑھانے پر اتفاق رائے کیا۔ وزیراعظم نے سی پیک کے تحت دونوں ممالک کی ترقیاتی حکمت عملی کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان میں چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت اور سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم اور مکمل حمایت پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے صدر شی جن پنگ کو اقتصادی اصلاحات اور پائیدار ترقی، صنعتی ترقی، زرعی جدید کاری اور علاقائی روابط کے لیے پاکستان کی پالیسیوں اور پاکستان کی ترقی میں سی پیک کے اہم کردار کے بارے میں آگاہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا عوام پر مرکوز، سماجی و اقتصادی ترقی کا ایجنڈا چین کے ‘مشترکہ خوشحالی’ کے تصور پر مبنی ہے۔ صدر شی جن پنگ نے وزیر اعظم کے اعزاز میں عشائیے کا بھی اہتمام کیا جہاں باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کا ایک اور دور ہوا۔
دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف نے چینی ہم منصب لی چیانگ سے وفد کے ہمراہ ملاقات میں مختلف شعبہ جات میں باہمی تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے۔گریٹ ہال آف دی پیپل پہنچنے پر وزیراعظم کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب ہوئی اور پیپلز لبریشن آرمی کے دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات ، باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی اور عالمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاک چین آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ جو کہ باہمی اعتماد اور مشترکہ اصولوں پر مبنی ہے وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہی ہے۔
ملاقات میں اہم معاملات پر غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا گیا اور خصوصی اقتصادی زونز پر خصوصی توجہ کے ساتھ تمام جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کی ضرورت پرزور دیا گیا۔ وزیراعظم نے پاکستان میں چینی شہریوں اور منصوبوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم لی نے وزیراعظم شہباز شریف کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہونے پر مبارک باد دی۔ وفود کی سطح پر بات چیت کے بعد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب ہوئی جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیراعظم لی کیانگ نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان فلم کو-پروڈکشن کا معاہدہ ہو اور خبروں اور اطلاعات کے تبادلے اور تعاون کا بھی معاہدہ کیا گیا۔ پاکستان اور چین کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط ہوئے، پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن اور چائنا میڈیا گروپ کے درمیان ایم او یو سائن ہوا، سی پیک میں تھرڈ پارٹی کی شراکت داری کے حوالے سے ضابطہ کار وضع کیا جائے گا۔ ڈیرہ اسماعیل خان تا ژوب قومی شاہراہ 50 کی فزیبیلیٹی اسٹڈی کے لیے، مظفرآباد-میرپو-منگلا ایکسپریس وے کی فزیبیلیٹی اسٹڈی کے لیے، مانسہرہ -چلاس قومی شاہراہ – 15 پر بابو سر کے مقام پر ٹنل کی تعمیر کے لیے، کراچی-حیدر آباد موٹر وے -9 کے حوالے سے فزیبیلیٹی اسٹڈی کےلیے، قراقرم ہائی وے کی ری الائینمینٹ کے لیے، 2022ء کے صنعتی تعاون کے فریم ورک کے نفاذ کے حوالے سے ایکشن پلان کے لیے ایم او یوز سائن کیے گئے۔ سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں سرویئنگ، میپنگ اور جیو انفارمیشن کے حوالے سے، زراعت کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر کے لیے، توانائی کے مؤثر مینجمنٹ سسٹم کے حوالے سے اسٹڈی کےلیے، اجارہ داری کے خاتمے میں تعاون کے لیے ایم او یو سائن ہوئے۔گورننس کے شعبے میں استعداد کار بڑھانے کے حوالے سے ورکشاپ کا لیٹر آف انٹینٹ، انڈسٹریل پارک کی تعمیر کے حوالے سے ورکشاپ کا لیٹر آف انٹینٹ سائن کیا گیا۔
ساتویں جوائنٹ ورکنگ گروپ کے سی پیک کے تحت صنعتی شعبے میں تعاون بڑھانے کے اتفاق کی توثیق کی گئی، پاک چین دوستی اسپتال ، گوادر کی حوالگی کا سرٹیفیکیٹ دیا گیا، گوادر میں سمندری پانی کو میٹھا کرنے کے پلانٹ کی حوالگی کا سرٹیفیکیٹ دیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اس وقت چین کےتاریخی دورے پر ہیں، چین کے شہرشی-آن میں قائم یانگلنگ ایگریکلچرل ڈیمانسٹریشن بیس کا دورہ کے دوران نارتھ ویسٹ ایگریکلچر اینڈ فاریسٹری یونیورسٹی کو پاکستان میں کیمپس کھولنے کی دعوت دی اور کہا کہ حکومتِ پاکستان اس معاملے میں ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے وزیرِاعظم شہباز شریف نے پاکستان سے سرکاری خرچ پر ایک ہزار طلباء و طالبات کو زراعت کی جدید تربیت کے لیے چین کے یانگلنگ ایگریکلچرل ڈیمانسٹریشن بیس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیرِ اعظم کو نارتھ ویسٹ ایگریکلچر اینڈ فاریسٹری یونیورسٹی دورے میں بیس کے مختلف حصوں اور پاکستانی پویلین کا دورہ بھی کروایا گیا۔
وزیرِ اعظم کو پاکستانی پویلین میں پاکستانی مصنوعات بھی دکھائی گئیں۔ انہیں بتایا گیا کہ یانگلنگ ایگریکلچرل ڈیمانسٹریشن بیس میں 26 ممالک زرعی تحقیق میں تعاون کرتے ہیں، پاکستان سب سے پہلا ملک تھا جس نے یانگلنگ ایگریکلچرل ڈیمانسٹریشن بیس میں تعاون شروع کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، حکومت فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے زراعت میں جدت کے لیے کوشاں ہے، پاکستانی زرعی مصنوعات اور ان کی پراسیسنگ سے ملکی برآمدت میں اضافہ کرسکتا ہے جو کہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیرِ اعظم کو جدید پلانٹ پروڈکشن فیکٹری کا بھی دورہ کروایا گیا جہاں زراعت کے عمودی طریقہ کار کے مختلف مراحل کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا گیا۔ وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، احسن اقبال، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، ڈاکٹر مصدق ملک، رانا تنویر حسین بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ تھے۔ اس دوران وزیر اعظم شہباز شریف سے صوبائی دارالحکومت شی آن میں شانشی کے پارٹی سربراہ نے ملاقات کی۔ صوبہ شانشی کے پارٹی سربراہ جاؤ ایدا نے وزیراعظم اور پاکستانی وفد کا خیر مقدم کیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ شی آن کی قیادت اور عوام کے پرتپاک استقبال پر مشکور ہیں، شی آن میں تاریخی مقامات پر چینی کاریگروں کی ہنر مندی نے متاثر کیا، چین بالخصوص شانشی حکومت نے تاریخی اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کی ہے، جبکہ ہمارے دورہ چین میں پاکستانی وفد کو تاریخی استقبالیہ دیا گیا۔ گزشتہ روز چین کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کامیاب رہی، صدر شی جن پنگ سے شاندار عشائیے کے دوران خوشگوار گفتگو ہوئی، پاکستان اور چین دو آہنی بھائی ہیں، پاک ۔ چین شراکت داری، تعاون اور برادرانہ تعلقات مثالی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی جس پر پوری قوم مشکور ہے، شانشی نے کورونا وبا کے دوران پاکستانیوں کی بھرپور مدد کی، چینی قیادت کی ترقی پسندانہ سوچ نے چین کو دنیا کی بڑی اقتصادی قوت بنایا، جبکہ پوری دنیا میں شانشی جدید زراعت اور گرین انرجی میں مثالی نام رکھتا ہے۔ انہوں نے شانشی کو پاکستان کے ساتھ زراعت میں تعاون کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، شانشی سے جدید زراعت اور گرین انرجی کے شعبے میں بہت کچھ سیکھ سکتا ہے، جدید زراعت سے اجناس کی پروسیسنگ سے برآمدات کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں، جبکہ حکومت کی اولین ترجیح ملکی برآمدات میں اضافہ اور بیرونی سرمایہ کاری کا فروغ ہے۔ شانشی کے پارٹی سربراہ جاؤ ایدا نے وزیر اعظم کو شانشی اور شی آن کی اقتصادیات اور مصنوعات پربریفنگ دی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور شانشی کے مابین تجارت کے فروغ کے وسیع موقع موجود ہیں جبکہ پاکستانی زراعت اور گرین انرجی سے متعلق ہر قسم کی معاونت کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی چینی قیادت سے کامیاب اور سودمند ملاقاتیں خوش آئند ہیں، شی آن کی جامعات میں پاکستانی طلبہ کی کثیر تعداد زیر تعلیم ہے جبکہ پاکستان اور چین کے تعلقات گہرے اور مضبوط ہیں۔ دریں اثناچین میں دنیا کی سب سے بڑی سولر کمپنی کو پاکستان میں مینوفیکچرنگ پلانٹ لگانے کی دعوت دے دی گئی ہے۔ پاور ڈویژن نے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی سولر مینوفیکچرنگ کمپنی کے صدر سے ملاقات کا اعلامیہ جاری کردیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے چین میں دنیا کی سب سے بڑی سولرمینوفیکچرنگ کمپنی لونجی گرین انرجی ٹیکنالوجی کےصدر ژن گولی سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں وفاقی وزیر نے پاکستان کی سولر توانائی کی استعداد پر بریفنگ دی، اویس لغاری نے بتایا کہ پاکستان تیزی سےانرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کا تناسب بڑھا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی کمپنی کے صدر نے پاکستان میں شمسی توانائی کے فروغ کے لیے تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نےچینی کمپنی کو پاکستان میں سولر مینوفیکچرنگ پلانٹ لگانے کی دعوت دی ہے۔











